JazzCash-icon    EasyPaisa-icon   Credit Cards   GooglePay-icon   ApplePay-icon
ایپ میں پیمنٹ صرف گوگل پے اور ایپل پے کے ذریعے ممکن ہے۔ جاز کیش، ایزی پیسہ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ویب سائٹ پر ہوگی۔
In-app payments support only Google Pay & Apple. JazzCash, EasyPaisa & Credit Card payments are available on the website.
ایپ میں پیمنٹ صرف گوگل پے اور ایپل پے کے ذریعے ممکن ہے۔ جاز کیش، ایزی پیسہ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ویب سائٹ پر ہوگی۔
In-app payments support only Google Pay & Apple. JazzCash, EasyPaisa & Credit Card payments are available on the website.

نکاح اسلامی معاشرت کی بنیاد اور ایک مقدس فریضہ ہے۔ یہ مرد اور عورت کے درمیان ایک قانونی اور شرعی معاہدہ ہے۔ جس کا دستاویزی ثبوت نکاح نامہ کہلاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ، دستاویزات کے تحفظ اور تصدیق کے طریقوں میں جدت آئی ہے۔

اور پاکستان سمیت کئی ممالک میں اب روایتی ہاتھ سے لکھے ہوئے نکاح نامے کی جگہ کمپیوٹرائزڈ نکاح نامہ متعارف کرایا گیا ہے۔ 

کمپیوٹرائزڈ نکاح نامہ کیا ہے؟ 

یہ ایک جدید، ڈیجیٹل طور پر درج شدہ اور پرنٹ شدہ نکاح نامہ ہے۔ جو روایتی ہاتھ سے لکھے ہوئے نکاح نامے کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ یہ حکومت کے مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک ہوتا ہے۔ اور اس پر تصدیق کے لیے ایک یونیک نمبر یا بار کوڈ موجود ہوتا ہے۔

کمپیوٹرائزڈ نکاح نامے کے فوائد 

کمپیوٹرائزڈ نکاح نامہ روایتی ہاتھ سے لکھے ہوئے نکاح نامے کے مقابلے میں کہیں زیادہ موثر، محفوظ اور قابلِ اعتماد ہے۔ 

۱۔ شفافیت اور آسان تصدیق

ہر کمپیوٹرائزڈ نکاح نامہ ایک منفرد کوڈ، بار کوڈ یا کیو آر کوڈ کے ساتھ جاری ہوتا ہے۔ کوئی بھی فریق یا مجاز ادارہ اس کوڈ کو اسکین کر کے فوری طور پر اس کی صداقت کی تصدیق کر سکتا ہے۔ 

۲۔ جعل سازی کا خاتمہ

روایتی نکاح ناموں میں جعل سازی یا کسی کالم کو بعد میں ترمیم کرنے کا خدشہ ہوتا تھا۔ لیکن کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ میں ایک بار اندراج کے بعد کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہوتی۔ جس سے جعلسازی کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔ 

۳۔ محفوظ اور پائیدار ریکارڈ 

سرکاری ڈیٹا بیس میں نکاح کا ڈیجیٹل ریکارڈ مستقل طور پر محفوظ رہتا ہے۔ روایتی نکاح نامے کا کاغذ ضائع ہونے، پھٹنے، آگ یا پانی سے خراب ہونے کا امکان موجود ہوتا ہے۔ جبکہ ڈیجیٹل نکاح نامہ کا ریکارڈ محفوظ اور ہمیشہ دستیاب ہوتا ہے۔ 

۴۔ گمشدگی کے بعد آسان حصول 

اگر آپ کا اصل نکاح نامہ گم ہو جاتا ہے۔ تو آپ یونین کونسل یا متعلقہ اتھارٹی سے اپنے شناختی کارڈ کے ذریعے محض چند منٹوں میں ایک مصدقہ نقل آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ 

۵۔ حکومتی اداروں سے منسلک 

کمپیوٹرائزڈ نظام براہ راست نادرا کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہوتا ہے۔ اس سے اندراج کے وقت غلط نام، ولدیت، یا تاریخ پیدائش کے اندراج کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ 

۶۔ شناختی کارڈ میں تبدیلی 

کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ نئی دلہن کے لیے جلد از جلد نئے شناختی کارڈ اور شادی کے بعد اس کا نام شوہر کے نام پر تبدیلی کے عمل کو تیز اور آسان کر دیتا ہے۔ 

۷۔ عالمی سطح پر قبولیت 

سفارت خانے اب زیادہ تر ڈیجیٹل دستاویزات کو ترجیح دیتے ہیں۔ لہذا بیرون ملک ویزا یا رہائش کے لیے درخواست دیتے وقت، کمپیوٹرائزڈ اور تصدیق شدہ دستاویزات کو غیر ملکی سفارت خانے اور امیگریشن حکام زیادہ آسانی سے قبول کرتے ہیں۔ جن پر بار کوڈ یا ہولوگرام لگا ہو۔ 

۸۔ قانونی معاملات میں سہولت 

جائیداد کی وراثت، انشورنس کلیم، یا کسی بھی دیگر قانونی تنازع کی صورت میں، کمپیوٹرائزڈ نکاح نامہ عدالت میں ایک ناقابلِ تردید ثبوت کے طور پر کام کرتا ہے۔ 

۹۔ خواتین کے حقوق کا تحفظ 

کمپیوٹرائزڈ نظام میں حق طلاق کی تفویض کا اندراج زیادہ واضح اور پائیدار طریقے سے ہوتا ہے۔ جس سے مستقبل میں شوہر کی جانب سے اس کالم کے غلط ہونے کے دعوے کو رد کیا جا سکتا ہے۔ 

۱۰- شادی کا ریکارڈ

اگر مرد پہلے سے شادی شدہ ہے۔ تو اس کے نکاح نامے کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس نے قانون کے مطابق دوسری شادی کی اجازت لی ہے یا نہیں۔ 

۱۱- حکومتی پالیسی سازی 

جب تمام نکاح نامے ڈیجیٹل ہوں تو حکومت کو شادیوں کے اعدادوشمار، عمر کی شرح، اور سماجی رجحانات کا تجزیہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ اصلاحات اور پالیسی سازی کے لیے اہم ہے۔

نکاح نامہ لکھنے کا طریقہ 

نکاح نامہ لکھنے کا عمل ایک انتہائی ذمہ داری کا کام ہے۔ کیونکہ یہ قانونی ریکارڈ کا حصہ بنتا ہے۔ نکاح نامہ کی شقیں پہلے نکاح رجسٹر میں خود تحریر کرکے مکمل کی جاتی تھیں۔ مگر اب کمپیوٹرائزڈ نظام نافذ ہو چکا ہے۔ 

روایتی طریقہ کار 

فارم کی دستیابی 

حکومت کی طرف سے جاری کردہ مخصوص فارم، جو اردو اور انگریزی میں چھپا ہوتا ہے۔ نکاح رجسٹرار یا قاضی کے پاس دستیاب ہوتا ہے۔ 

کتابت

نکاح رجسٹرار فریقین اور گواہان کی معلومات، مہر کی رقم، حق مہر کی اقسام یعنی معجل ہے یا غیر معجل۔ اور دیگر شرائط جیسے حق طلاق کو احتیاط سے سیاہی والے قلم سے ہاتھ سے درج کرتا ہے۔ 

دستخط 

فارم پر دلہا، دلہن، گواہان، وکیل (اگر ہو)، اور نکاح رجسٹرار کے دستخط یا انگوٹھوں کے نشانات لیے جاتے ہیں۔ 

تقسیم 

نکاح نامے کی تین یا چار نقول تیار کی جاتی ہیں۔ ایک دلہا دلہن کے لیے، ایک نکاح رجسٹرار کے ریکارڈ کے لیے۔ اور ایک یونین کونسل مین جمع کروانے کے لیے۔ 

اندراج 

نکاح رجسٹرار اسے یونین کونسل میں جمع کراتا ہے۔ جہاں سے اسے سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

کمپیوٹرائزڈ طریقہ کار 

اگرچہ آج بھی کئی دیہی علاقوں میں پرانا فارم استعمال ہوتا ہے۔ لیکن شہروں میں اب کمپیوٹرائزڈ نکاح نامے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ 

ڈیٹا انٹری 

نکاح کی تقریب کے بعد، نکاح رجسٹرار یا مجاز حکام یونین کونسل یا متعلقہ سرکاری دفتر میں فریقین کی تمام تفصیلات، جیسا کہ شناختی کارڈ نمبر، تاریخ پیدائش، پتا وغیرہ کو ایک خصوصی سافٹ ویئر یا ڈیٹا بیس میں درج کرتے ہیں۔ 

تصدیق 

چونکہ معلومات شناختی کارڈ سے لی جاتی ہیں۔ اس لیے نادرا کے ڈیٹا بیس سے فریقین کی شناخت اور عمر کی تصدیق خود بخود ہو جاتی ہے۔ 

پرنٹنگ 

ڈیٹا انٹری کے بعد، نکاح نامہ کو ایک کمپیوٹرائزڈ اور مستند فارمیٹ میں پرنٹ کیا جاتا ہے۔ 

بار کوڈ یا کیو آر کوڈ 

کمپیوٹرائزڈ نکاح نامہ پر ایک منفرد بار کوڈ موجود ہوتا ہے۔ جو دستاویز کی صداقت کو ظاہر کرتا ہے۔ 

ڈیجیٹل ریکارڈ

نکاح نامہ ایک ڈیجیٹل نقل مستقل طور پر سرکاری ڈیٹا بیس میں محفوظ کر لی جاتی ہے۔ فریقین کو صرف پرنٹ شدہ، سرکاری مہر کے ساتھ، نقل فراہم کی جاتی ہے۔ 

میرج سرٹیفیکیٹ 

بہت سے شہروں میں یونین کونسل اس اندراج کی بنیاد پر ایک اضافی میرج سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے۔ جو کمپیوٹرائزڈ ہوتا ہے۔ 

اختتامیہ

کمپیوٹرائزڈ نکاح نامہ دراصل ڈیجیٹل پاکستان یا ڈیجیٹل گورننس کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ یہ محض ایک کاغذی دستاویز نہیں بلکہ ایک مربوط نظام ہے۔ جو نکاح جیسے مقدس معاہدے کو مکمل تحفظ، شفافیت اور قانونی حیثیت فراہم کرتا ہے۔ 

یہ جدید طریقہ کار نہ صرف فریقین کے لیے سہولت کا باعث ہے۔ بلکہ حکومتی ریکارڈ کو بھی زیادہ مستحکم، منظم، اور قابلِ اعتماد بناتا ہے۔ اس اقدام سے پاکستان میں خاندانی قانون کے نفاذ اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

 

ایف اے کیوز

نکاح نامہ میں سب سے اہم قانونی شرائط کیا ہیں؟

دلہا اور دلہن کا مکمل نام، ولدیت، شناختی کارڈ نمبر، نمبر اور مستقل پتہ 

نکاح کے وقت دو بالغ، مسلمان گواہوں کی تفصیلات 

مہر کی کل رقم اور ادائیگی کا طریقہ کار 

نکاح پڑھانے والے قاضی یا رجسٹرار کا لائسنس نمبر اور دستخط

نکاح نامہ کو کمپیوٹرائزڈ میریج سرٹیفکیٹ میں تبدیل کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

روایتی نکاح نامہ کو کمپیوٹرائزڈ میریج سرٹیفکیٹ میں تبدیل کروانے کے لیے، سب سے پہلے آپ کا نکاح نامہ متعلقہ یونین کونسل میں باضابطہ طور پر رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے۔

اس کے بعد دلہا اور دلہن اپنے اصل قومی شناختی کارڈ کے ساتھ یونین کونسل کے دفتر میں ایک درخواست فارم اور مقررہ سرکاری فیس جمع کرواتے ہیں۔ عملہ آپ کے نکاح نامے میں موجود تفصیلات کو اپنے سرکاری ریکارڈ سے ملا کر تصدیق کرتا ہے۔ اور تصدیق مکمل ہونے پر آپ کو یونیک رجسٹریشن نمبر والا کمپیوٹریئزڈ میرج سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔

کمپیوٹرائزڈ نکاح نامہ کیوں ضروری ہے؟

نکاح نامہ کمپوٹرائزڈ ہونا اس لئے ضروری ہے۔ کیونکہ یہ دستاویز کو جعلی سازی سے محفوظ رکھتا ہے۔ طویل عرصے تک محفوظ ریکارڈ فراہم کرتا ہے۔ اور نادرا سمیت دیگر حکومتی اداروں کے ساتھ آسانی سے منسلک ہو جاتا ہے۔ 

نکاح نامہ کون پُر کرتا ہے؟

نکاح نامہ نکاح رجسٹرار یا قاضی (جو حکومت سے رجسٹرڈ ہو) پُر کرتا ہے۔ یہ اس کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام معلومات فریقین کی موجودگی میں درست طور پر درج کرے۔ 

نکاح نامہ پُر کرتے وقت کن معلومات کا ہونا ضروری ہے؟

نکاح نامہ ایک مکمل اور قانونی معاہدہ ہے۔ اس لیے اسے پُر کرتے وقت دلہا اور دلہن کے شناختی کارڈ نمبرز کے ساتھ مکمل نام کا اندراج بہت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی حق مہر کی رقم اور اس کی نوعیت یعنی معجل یا غیر معجل درج کی جائے۔ دو گواہان کے نام اور شناختی کارڈ نمبرز کی تفصیلات شامل کی جائیں۔ آخر میں، سب سے اہم نقطہ، یعنی حق طلاق کی تفویض سے متعلق فریقین کے فیصلے کو بھی نکاح نامہ میں درج کیا جائے۔ 

کیا نکاح نامے پر دلہن کے دستخط ہونا ضروری ہیں؟

جی ہاں۔ نکاح نامے پر دلہن کے دستخط یا انگوٹھا لگانا لازمی ہے۔ تاکہ اس بات کی تصدیق ہو کہ اس نے تمام شرائط بالخصوص حق مہر اور حق طلاق کی تفویض کو پڑھ لیا ہے۔ اور وہ اس پر رضامند ہے۔ 

نکاح نامہ چیک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

آپ متعلقہ یونین کونسل/میونسپل کارپوریشن کے دفتر جا کر نکاح رجسٹرار کے رجسٹر میں اندراج کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ یا پھر اگر نکاح نامہ کمپیوٹرائزڈ ہے تو اس پر موجود بار کوڈ کے ذریعے حکومتی تصدیقی ویب سائٹ یا ایپلیکیشن سے اس کی صداقت چیک کر سکتے ہیں۔ 

اگر نکاح نامہ گم ہو جائے تو کیا کرنا ہو گا؟

اگر نکاح نامہ گم ہو جائے تو پریشان نہ ہوں۔ چونکہ اس کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نظام میں محفوظ ہے۔ آپ کو اپنے شناختی کارڈ نمبر اور نکاح کی تاریخ کے ساتھ متعلقہ یونین کونسل میں درخواست دے کر اس کی ایک مصدقہ نقل باآسانی مل سکتی ہے۔

نکاح نامہ کی تصدیق نہ ہونے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کو نکاح نامہ کی تصدیق میں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو آپ کو فوری طور پر اس یونین کونسل کے سیکرٹری یا میونسپل آفیسر سے رابطہ کرنا چاہیے۔ جہاں اس کا اندراج کیا گیا تھا۔ اگر جعلی سازی کا شبہ ہو تو قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

کیا نکاح نامہ میں حق طلاق کی تفویض کو درج کرنا ضروری ہے؟

یہ ضروری نہیں ہے۔ لیکن انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ نکاح نامہ کے کالم نمبر اٹھارہ میں دلہن کی مرضی کے مطابق اسے حق طلاق دینے یا نہ دینے کا اندراج کیا جاتا ہے۔ اگر دلہن کو یہ حق دیا جاتا ہے۔ تو وہ مخصوص شرائط کے تحت طلاق کا اختیار استعمال کر سکتی ہے۔ اس کالم کو خالی نہیں چھوڑنا چاہیے۔

اگر دلہا پہلے سے شادی شدہ ہو تو نکاح نامہ میں کیا شرائط شامل کی جاتی ہیں؟

اگر دلہا پہلے سے شادی شدہ ہے۔ تو اسے نکاح نامے کے متعلقہ کالم میں اس بات کی وضاحت کرنی ہوتی ہے۔ قانونی طور پر دوسری شادی کے لیے اسے اپنی پہلی بیوی سے تحریری اجازت اور مصالحتی کونسل سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس اجازت نامے کا حوالہ بھی نکاح نامہ میں دیا جانا چاہیے۔

نکاح نامہ کے کون سے کالم کو خالی چھوڑنے سے قانونی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں؟

اگرچہ ہر کالم اہم ہے۔ لیکن درج ذیل کالمز کو خالی چھوڑنا سب سے زیادہ قانونی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ 

  • کالم  نمبر تیرا سے سولہ۔ جس میں مہر کی رقم اور ادائیگی کی تفصیلات درج ہوتی ہیں ۔  
  • کالم اٹھارہ۔ جس میں حق طلاق کی تفویض کی جاتی ہے۔
  • کالم انیس۔ جس میں واضح کیا جات اہے کہ طلاق کے حق پر کوئی پابندی یا شرط عائد نہیں۔
Download App

Simple Rishta

We are available from : 10:00 AM to 10:00 PM (Monday to Friday)

I will be back soon

Hey there 👋
How can we help you?
Messenger