بچوں کی تربیت ہر والدین کے لیے ایک اہم ذمہ داری ہے۔ خاص طور پر وہ جوڑے جن کی شادی کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ وہ اکثر سوچتے ہیں کہ اولاد کی پرورش کس طرح مؤثر اور متوازن ہو سکتی ہے۔
چاہے آپ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہ رہے ہوں یا الگ گھر میں۔ بچوں کی اچھی پرورش میں والدین کی رہنمائی اور باہمی ہم آہنگی بہت اہم ہے۔ کیونکہ یہ بچوں کی شخصیت کی بنیاد رکھتی ہے۔ صحیح تعاون اور سمجھ بوجھ سے نہ صرف بچے اخلاقی اور بااخلاق انسان بنتے ہیں بلکہ والدین کا رشتہ بھی مضبوط رہتا ہے اور پورا خاندان خوشحال اور مطمئن رہتا ہے۔
بچوں کی تربیت – اہم مسائل اور حل
شادی کا اصل مقصد صرف ذاتی سکون حاصل کرنا نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط اور بااخلاق نسل کی پرورش کرنا بھی ہے۔
۱۔ والدین میں اختلافات اور تربیتی رویہ
شادی کے ابتدائی سالوں میں زوجین میں اختلاف کے بنیادی اسباب میں سے ایک اہم وجہ اولاد کی پرورش اور تربیت ہوتی ہے۔ بچوں کی نشوونما وقت، توجہ اور صبر کا تقاضا کرتی ہے۔ بعض مرد یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ذمہ داری مکمل طور پر عورت کی ہے۔ جبکہ عورت چاہتی ہے کہ وہ اگر گھر کی دیگر ذمہ داریاں نبھا رہی ہے۔ لیکن بچوں کی پرورش میں شوہر اس کے ساتھ بھرپور تعاون کرے۔
مزید برآں، اولاد کی پرورش پر اکثر نئے شادی شدہ جوڑے متفق نہیں ہوتے۔ بعض والدین سخت گیر ہوتے ہیں۔ جبکہ بعض نرم مزاج۔ اگر یہ اختلافات اولاد کے سامنے ظاہر ہوں تو یہ ان کے رویے اور ذہنی سکون پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
حل
۱۔ والدین کو چاہیے کہ بچے کے سامنے ایک دوسرے کی تردید نہ کریں۔
۲۔ بچوں کی پرورش و رہنمائی کے اصول پہلے طے کریں اور ان پر مستقل عمل کریں۔
۳۔ اختلافات کی صورت میں بچے کے سامنے نہیں۔ بلکہ نجی ماحول میں بات کریں۔
۴۔ ایک متحدہ حکمت عملی اپنائیں تاکہ والدین کی رائے ایک جیسی لگے۔ اور بچوں کے لیے واضح رہنمائی ہو۔
۵۔ وقتاً فوقتاً ایک دوسرے کے نظریات کو سمجھیں۔ اور باہمی مشورے سے اصلاح کریں۔ تاکہ تربیت کا عمل ہموار اور مؤثر ہو۔
۲۔ وقت کی کمی اور والدین کی مصروفیت
جدید دور میں والدین اکثر کام اور دیگر ذمہ داریوں میں مصروف رہتے ہیں۔ خاص طور پر آج کل خواتین میں بھی ملازمت کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ جس کے باعث بچوں کے ساتھ گزارا جانے والا وقت محدود ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں یہ حقیقت اور بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اولاد کی تربیت میں ماں اور باپ کا کردار محض ذمہ داری نہیں۔ بلکہ ایک مشترکہ مشن ہے۔
اگر والدین شعوری طور پر بچوں کے لیے وقت نہ نکالیں۔ تو اس کا براہِ راست اثر بچوں کی شخصیت سازی، ان کی جذباتی وابستگی اور اخلاقی نشوونما پر پڑتا ہے۔ بچے والدین کی توجہ، گفتگو اور موجودگی سے سیکھتے ہیں۔ اور یہی قربت ان کے اندر اعتماد، توازن اور اچھے رویّے پیدا کرتی ہے۔
حل
۱۔ دن کے مخصوص اوقات صرف بچوں کے لیے مختص کریں۔ اور اس دوران ان پر مکمل توجہ دیں۔
۲۔ والدین مل کر بچوں کے تعلیمی، اخلاقی اور دینی تربیتی شیڈول تیار کریں۔ تاکہ دونوں ایک ہم آہنگ تربیتی حکمت عملی اختیار کریں۔
۳۔ موبائل، ٹی وی یا دیگر اسکرین ٹائم کی بجائے بچوں کے ساتھ کھیلنے، بات چیت کرنے اور کہانیاں سنانے کو ترجیح دیں۔
۳۔ اسلامی اور اخلاقی تربیت کا فقدان
بچوں کو اخلاقی اور دینی تربیت دینا اتنا ہی ضروری ہے جتنا ان کی تعلیمی ترقی۔ بچوں کی اسلامی تربیت انہیں نہ صرف ایک اچھا انسان بننے میں مدد دیتی ہے۔ بلکہ بڑوں کی عزت، رشتوں کی پہچان اور رشتوں کی قدر و قیمت اور بنیادی اقدار کو سمجھنے کا شعور بھی عطا کرتی ہے۔ یہ کوئی ایک فرد کی ذمہ داری نہیں۔ بلکہ ماں اور باپ دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اکثر والدین اپنے بچوں کے لیے بہترین سے بہترین اسکول کی تلاش میں رہتے ہیں۔ انہیں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر آمادہ کرتے ہیں۔ لیکن جب بات اسلامی اور اخلاقی تربیت کی آتی ہے۔ تو عموماً یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ صرف ایک بار قرآنِ مجید ناظرہ پڑھا دینا ہی کافی ہے۔ حالانکہ اسلامی تربیت ایک مسلسل عمل ہے۔ جو روزمرہ کے رویّوں، گفتگو اور عملی مثالوں سے بچوں کی شخصیت میں راسخ ہوتی ہے۔
حل
۱۔ بچوں کی تربیت سیرت النبی کی روشنی میں کریں۔ ان کو قرآن و حدیث کے بنیادی اصول سادہ اور عمر کے مطابق انداز میں سکھائیں۔ تاکہ وہ دین کو بوجھ نہیں بلکہ رہنمائی سمجھیں۔
۲۔ والدین روزانہ کی بنیاد پر گھر میں چھوٹے چھوٹے اخلاقی اسباق شامل کریں۔ جیسے سچ بولنا، بڑوں کی بات سننا، شکرگزاری اور برداشت۔
۳۔ کہانیوں، واقعات اور عملی مثالوں کے ذریعے بچوں کے دلوں میں صداقت، صبر، نیکی اور احترامِ انسانیت کی اہمیت اجاگر کریں۔
۴۔ اس طرح کی تربیت نہ صرف بچوں کے کردار کو سنوارتی ہے۔ بلکہ انہیں ایک متوازن، بااخلاق اور ذمہ دار فرد بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
۴۔ موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے اثرات
آج کے دور میں بچوں کی علمی و اخلاقی تربیت سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک بن چکی ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور جذباتی نشوونما کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ بچے اب کم عمری میں وہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے ہیں جو پہلے بڑوں کی دنیا تک محدود تھا۔ اسی وجہ سے اکثر والدین یہ محسوس کرتے ہیں کہ بچے وقت سے پہلے بڑے ہو رہے ہیں اور ان کا رویہ والدین کی توقعات سے مختلف ہوتا جا رہا ہے۔
دور حاضر میں بچوں کی کردار سازی کا سب سے حساس پہلو یہی ہے کہ بچے سوشل میڈیا سے اقدار سیکھ رہے ہیں، جبکہ والدین ان اقدار سے واقف بھی نہیں ہوتے۔ یوٹیوب، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور گیمز کے ذریعے بچے ایسے رویے اپناتے ہیں جن میں ضد، بدتمیزی، جلد غصہ آنا، بڑوں کی بات نہ ماننا اور غیر ضروری خود اعتمادی شامل ہو سکتی ہے۔
خصوصاً مشترکہ خاندانی نظام میں رہنے والے بچوں پر یہ اثرات زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ گھر میں متعدد افراد کی موجودگی اور مختلف نظریات بچے کو الجھا سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا بچوں کے ذہن میں ایک خیالی دنیا پیدا کر دیتا ہے۔ جہاں مشہور ہونا سب سے بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ اور دکھاوا، مقابلہ اور حسد پروان چڑھتا ہے۔ اس کا جسمانی اور ذہنی نشوونما پر منفی اثر پڑتا ہے اور حقیقی رشتوں کی اہمیت کم ہوتی جاتی ہے۔
مسلسل اسکرین ٹائم بچوں کی توجہ کمزور کر دیتا ہے، یادداشت متاثر ہوتی ہے اور بچے والدین سے بات چیت کے بجائے اسکرین کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کی نشونما میں سوشل میڈیا کے اثرات پر غور کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔
حل
۱۔ بچوں کی اسلامی تربیت کو بنیاد بنائیں اور انہیں قرآن کے قصے، انبیاء کرامؑ کی سیرت اور اخلاقی کہانیاں باقاعدگی سے سنائیں۔ تاکہ ان کے اندر سچائی، صبر، احترام اور حیا جیسے اوصاف پیدا ہوں۔
۲۔ بچوں کے موبائل اور انٹرنیٹ استعمال پر نظر رکھیں۔ مگر اعتماد اور گفتگو کے ساتھ، جاسوسی یا سخت نگرانی کے انداز میں نہیں۔ تاکہ بچہ والدین سے چھپانے کے بجائے خود بات شیئر کرے۔
۳۔ عمر کے مطابق اسکرین ٹائم مقرر کریں اور بچوں کو اس کی وجہ بھی سمجھائیں۔ تاکہ وہ پابندی کو سزا نہیں بلکہ حفاظت سمجھیں۔
۴۔ سوشل میڈیا کے منفی اثرات پر بچوں سے کھل کر بات کریں۔ اور انہیں بتائیں کہ ہر چیز جو اسکرین پر نظر آتی ہے وہ حقیقت نہیں ہوتی۔
۵۔ خود والدین موبائل کے استعمال میں اعتدال اختیار کریں۔ کیونکہ بچہ عمل کوالفاظ سے زیادہ جلد سیکھتا ہے۔ اور والدین کا رویہ اس کی سب سے بڑی تربیت ہوتا ہے۔
۶۔ بچوں کے لیے متبادل سرگرمیاں فراہم کریں جیسے کہ کتابیں پڑھنا، تعلیمی کھیل، ڈرائنگ، آؤٹ ڈور ایکٹیویٹیز اور خاندانی گفتگو۔
۷۔ گھر میں ایسا ماحول بنائیں جہاں سوال کرنے، بات کرنے اور اپنی رائے دینے کی حوصلہ افزائی ہو۔ تاکہ بچہ سوشل میڈیا کے بجائے والدین سے سیکھے۔
۸۔ تربیت کو وقتی ردعمل کے بجائے مستقل عمل بنائیں۔ کیونکہ دور حاضر میں اولاد کی تربیت صبر، حکمت اور تسلسل کا تقاضا کرتی ہے
۵۔ بچوں کی بات اور جذبات کو نظر انداز کرنا
بچوں کی بات نہ سننا اور ان کے جذبات کو معمولی سمجھنا تربیت میں ایک سنگین خامی ہے۔ جب والدین بچوں کی رائے، احساسات یا چھوٹی چھوٹی شکایات کو نظر انداز کرتے ہیں۔ تو بچے یہ سیکھ لیتے ہیں کہ ان کی بات کی کوئی اہمیت نہیں۔ اس سے نہ صرف ان کی خود اعتمادی کمزور ہوتی ہے۔ بلکہ والدین پر اعتماد میں بھی کمی آتی ہے۔ ایسے بچے زیادہ محتاط، اندرونی دباؤ والے یا بعض اوقات جارحانہ رویہ اپنانے لگتے ہیں۔
خاص طور پر مشترکہ خاندانی نظام میں۔ جہاں کئی بڑوں کے بیچ رہنا پڑتا ہے۔ بچے اکثر اپنے جذبات چھپانے لگتے ہیں۔ تاکہ انہیں کسی کی ناراضگی یا تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جو ان کی جذباتی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
حل
۱۔ بچوں کی بات کو مکمل توجہ کے ساتھ سنیں۔ اور ان کے جذبات کی قدر کریں۔ چاہے وہ چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں۔
۲۔ بچوں سے سوال کریں کہ وہ کیا محسوس کر رہے ہیں۔ اور ان کی رائے کو اہمیت دیں۔
۳۔ والدین خود بھی اپنی بات چیت میں صبر اور احترام کا مظاہرہ کریں۔ تاکہ بچہ سکون کے ساتھ اپنی بات کہہ سکے۔
۴۔ جذبات کو نظرانداز کرنے کے بجائے، بچوں کو حل تلاش کرنے اور مسائل کو بانٹنے کی عادت ڈالیں۔
۵۔ روزانہ مختصر وقت بچوں کے ساتھ بات چیت کے لیے مختص کریں۔ تاکہ وہ اپنے جذبات اور خیالات کھل کر بیان کر سکیں۔
آخر میں یہ کہنا بے حد ضروری ہے کہ بچوں کی شخصیت سازی صرف والدین کی ذمہ داری نہیں۔ بلکہ ایک مشترکہ اور مربوط عمل ہے۔ بچوں کی تربیت میں ماں کا کردار سب سے اہم ہے۔ کیونکہ ماں اپنے نرم مزاج، صبر اور محبت سے بچے کے ابتدائی اخلاق، جذبات اور رویّے قائم کرتی ہے۔ باپ کا تعاون، رہنمائی اور عملی مثالیں بچوں کے لیے تربیتی اصولوں کو مستحکم کرتی ہیں۔
اسی کے ساتھ، بچوں کی تربیت میں استاد کا کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ استاد نہ صرف تعلیمی مہارتیں سکھاتا ہے۔ بلکہ بچے کے کردار سازی میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ وہ بچوں کی اخلاقی تربیت، نظم و ضبط اور اجتماعی رویّوں کی پہچان میں رہنمائی کرتا ہے۔ والدین اور استاد کا مشترکہ تعاون بچوں کی شخصیت کو متوازن اور ذمہ دار بنانے کے لیے لازمی ہے۔
مزید برآں، بچوں کی تربیت قرآن کی روشنی میں ہونی چاہیے۔ قرآن اور حدیث بچوں کو صبر، عاجزی، احترام، شکرگزاری اور اچھے اخلاق کے اصول سکھاتے ہیں۔ بچوں کو ان اصولوں کے مطابق پروان چڑھانا نہ صرف ان کے کردار کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے بلکہ پورے معاشرے کی بھلائی کے لیے بھی لازمی ہے۔
اگر والدین اور اساتذہ مل کر یہ ذمہ داری بخوبی انجام دیں۔ تو بچے نہ صرف اچھے انسان بنیں گے۔ بلکہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کریں گے۔
ایف اے کیوز
بچوں کی تربیت پر احادیث کون سی ہیں؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں۔
دور حاضر میں بچوں کی تربیت کیسے کی جائے؟
دور حاضر میں بچوں کی تربیت میں موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے اثرات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ والدین کو بچوں کی اسلامی تربیت، اخلاقی تربیت، مثبت رویے اور محدود اسکرین ٹائم کے ذریعے متوازن تربیت فراہم کرنی چاہیے۔
بچوں کی تربیت میں ماں کا کردار کیا ہے؟
ماں بچوں کی ابتدائی تربیت میں سب سے اہم ہے۔ ماں اپنی محبت، صبر اور شفقت سے بچے کے جذبات، رویّے اور اخلاق کی بنیاد رکھتی ہے۔ ماں کا رہنمائی اور مثال بچوں کے لیے مضبوط تربیتی اصول پیدا کرتی ہے۔
بچوں کی تربیت سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں کیسے کی جائے؟
بچوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق، محبت، صبر، سخاوت اور عدل کی مثالیں بتائیں۔ سیرت سے بچوں میں عزت، احترام اور اچھے معاشرتی رویے پیدا ہوتے ہیں۔ کہانیاں اور واقعات بچوں کو عملی سبق دینے میں مددگار ہیں۔
بچوں کی تربیت میں استاد کا کردار کیا ہے؟
استاد بچوں کی علمی اور اخلاقی تربیت میں رہنمائی کرتا ہے۔ استاد بچوں کو نظم و ضبط، اجتماعی رویے اور علم کے ساتھ ساتھ سیکھنے کی دلچسپی پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ والدین اور استاد کی مشترکہ کوشش بچے کے کردار سازی میں مؤثر ہوتی ہے۔
بچوں کی تربیت قرآن کی روشنی میں کیسے کی جائے؟
قرآن بچوں کو صبر، شکرگزاری، نیکی اور احترام سکھاتا ہے۔ بچوں کو قرآن کے قصے اور بنیادی اصول سادہ انداز میں سکھانے سے وہ دین کو بوجھ کے بجائے رہنمائی کے طور پر سمجھیں گے اور معاشرتی اقدار بھی سیکھیں گے۔
بچوں کی تربیت کے لیے مفید کتابیں کہاں سے خریدی جا سکتی ہیں؟
آن لائن اسٹورز، مقامی بک شاپس اور اسلامی کتاب فروشوں سے خریدی جا سکتی ہیں۔
بچوں کی تربیت کے لیے موبائل ایپس کون سی ہیں جو مقبول ہیں؟
Khan Academy Kids
Duolingo ABC
ClassDojo
بچوں کی تربیت کے لیے تعلیمی کھلونے کہاں سے خریدے جائیں؟
تعلیمی کھلونے آن لائن مارکیٹس اور تعلیمی اسٹورز میں دستیاب ہوتے ہیں۔
بچوں کی تربیت کے لیے ویڈیو کورسز کہاں دیکھے جا سکتے ہیں؟
YouTube
Coursera
Udemy
پر بچوں کے لئے مختلف ویڈیو کورسز دستیاب ہیں۔


