JazzCash-icon    EasyPaisa-icon   Credit Cards   GooglePay-icon   ApplePay-icon
ایپ میں پیمنٹ صرف گوگل پے اور ایپل پے کے ذریعے ممکن ہے۔ جاز کیش، ایزی پیسہ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ویب سائٹ پر ہوگی۔
In-app payments support only Google Pay & Apple. JazzCash, EasyPaisa & Credit Card payments are available on the website.
ایپ میں پیمنٹ صرف گوگل پے اور ایپل پے کے ذریعے ممکن ہے۔ جاز کیش، ایزی پیسہ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ویب سائٹ پر ہوگی۔
In-app payments support only Google Pay & Apple. JazzCash, EasyPaisa & Credit Card payments are available on the website.

اولاد اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت اور بڑی امانت ہے۔ شادی کے بعد میاں بیوی کی زندگی کا سب سے حساس مرحلہ اولاد کی تربیت سے جُڑا ہوتا ہے، جو صرف ذاتی نہیں بلکہ دینی اور اخلاقی فریضہ بھی ہے۔  

ایک مضبوط خاندان، پُرسکون ازدواجی زندگی اور صالح معاشرہ اسی وقت تشکیل پاتا ہے۔ جب اولاد کی تربیت درست بنیادوں پر کی جائے۔ کیونکہ اچھی تربیت ہی مضبوط خاندانی رشتوں اور کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد بنتی  ہے۔ 

اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ تربیت میں ماں کا کردار زیادہ اہم ہے یا باپ کا؟ حقیقت یہ ہے کہ ماں اور باپ دونوں کا کردار لازم و ملزوم ہے۔ خاص طور پر آج کے ڈیجیٹل دور میں۔ جب خاندان کی تعریف اور تصور بدل چکا ہے۔ اور خاندانی نظام دباؤ کا شکار ہے۔ 

اولاد کی تربیت کیوں ضروری ہے؟

یاد رہے، اولاد کی تربیت صرف اچھے اسکول یا مہنگی تعلیم تک محدود نہیں۔ یہ ایک ہمہ جہت عمل ہے۔ جس میں اخلاق، کردار، دین، سماجی رویے اور خاندانی اقدار شامل ہیں۔ یہ تربیت نہ صرف بچے کے مستقبل بلکہ معاشرے کی بہتری اور آخرت کی کامیابی پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ 

اگر تربیت پر توجہ نہ دی جائے تو خاندانی نظام کمزور پڑتا ہے۔ شادیوں میں مسائل بڑھتے ہیں۔ اور والدین و اولاد کے درمیان فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی لیے شادی شدہ جوڑوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے۔ کہ اولاد کی درست تربیت ہی مضبوط خاندان اور خوشحال ازدواجی زندگی کی بنیاد ہے۔ 

اسلام میں اولاد کی تربیت کے احکامات

اسلام میں اولاد کی تربیت کو بے حد اہمیت حاصل ہے۔ والدین صرف بچوں کی جسمانی ضروریات پورا کرنے کے پابند نہیں۔ بلکہ ان کی دینی، اخلاقی، ذہنی اور روحانی نشوونما کے بھی ذمہ دار ہیں۔ اسلام کے نزدیک تربیت کا مقصد ایک متوازن شخصیت کی تشکیل ہے جو ایمان، اخلاق اور کردار کا حسین امتزاج ہو۔ یہ محض سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ 

جیسا کہ قرآن و حدیث میں والدین کو بارہا یاد دہانی کرائی گئی ہے۔ حضرت لقمانؑ کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں بھی اس کا بہترین نمونہ ہیں۔ جن میں توحید، نماز، نیکی اور اچھے اخلاق کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن پاک کی سورہ الفرقان میں یہ دعا سکھائی گئی ہے۔

اے ہمارے رب! ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے۔

جو اس بات کی علامت ہے کہ اولاد اللہ کی رحمت ہے۔ اور ان کی تربیت محبت، حکمت اور احسان کے ساتھ ہونی چاہیے۔ 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کی تلقین کی جائے۔ اور دس سال میں اس کی پابندی کروائی جائے۔ جو تربیت میں تسلسل اور نظم کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا۔

تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی بھی اولاد کی تربیت میں نرمی، شفقت اور محبت کا بہترین نمونہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا۔

نرمی جس چیز میں ڈال دی جائے، اسے خوبصورت بنا دیتی ہے۔

اسلام میں بچوں کی تربیت کا مقصد صرف دنیاوی تعلیم نہیں بلکہ ایسی متوازن شخصیت کی تشکیل ہے جو ایمان، اخلاق اور علم کا حسین امتزاج ہو اور آخرت کی کامیابی کو اپنی زندگی کا مرکز بنائے۔

اولاد کی تربیت میں والدین کا کردار

اولاد کی تعلیم و تربیت ایک مسلسل اور مشترکہ سفر ہے جس میں ماں اور باپ دونوں کا کردار یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ مقصد ایک ہی ہے: ایک متوازن، باکردار اور ذمہ دار انسان کی تشکیل۔ 

جہاں ماں بچے کے لیے بنیادی درسگاہ اور پہلی رہنما ہے، وہیں مرد کا کردار بحیثیت باپ، بھائی اور شوہر بھی نہایت اہم ہے۔ اس کے رویے، فیصلے اور عملی مثال نہ صرف اولاد کی شخصیت سازی بلکہ خاندانی تعلقات کے معیار کو بھی مستحکم کرتے ہیں۔ یاد رکھیں، اولاد کی تربیت صرف بچپن تک محدود نہیں بلکہ یہ عمل زندگی کے ہر مرحلے میں نئی شکل اختیار کرتا ہے۔

ابتدائی عمر میں ماں اور باپ کا کردار

بچوں کا ذہن سفید کاغذ کی مانند ہوتا ہے اور والدین کے رویے، عادات اور الفاظ اس پر گہرے نقوش چھوڑتے ہیں۔ ابتدائی سالوں میں ماں اور باپ کا کردار بچوں کے اخلاق، رویے اور شخصیت کی بنیاد رکھتا ہے۔ 

ماں کی ذمہ داریاں

۱۔ بچے کو محبت، توجہ اور تحفظ فراہم کرنا 

۲۔ بنیادی اخلاقی اقدار جیسے سچائی، ایمانداری اور رحم دلی سکھانا 

۳۔ نماز، دعا اور دینی تعلیمات سے روشناس کرانا 

۴۔ بول چال، آداب اور زبان کی تربیت دینا 

باپ کی ذمہ داریاں 

۱۔ نظم و ضبط اور وقت کی پابندی سکھانا 

۲۔ سچائی اور انصاف کی عملی مثال بننا 

۳۔ حلال اور حرام کی تمیز کروانا 

۴۔ ماں کے تربیتی کردار میں بھرپور تعاون کرنا 

۵۔ گھر میں اصول و حدود قائم کرنا تاکہ بچے ان پر عمل کرنا سیکھیں 

ابتدائی عمر میں والدین کا رویہ بچے کی نفسیاتی اور اخلاقی تشکیل کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ محبت، نرمی اور مثبت مثال بچوں میں اعتماد اور ذمہ داری پیدا کرتی ہے۔

جوان اور شادی شدہ اولاد کی تربیت

جب اولاد بالغ ہو کر شادی شدہ زندگی میں قدم رکھتی ہے تو والدین کا کردار تبدیل ہو جاتا ہے۔ اب ان کا کام براہِ راست احکامات دینے کی بجائے مشیر اور رہنما بننا ہے۔ والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اولاد کو سمجھائیں کہ شادی کے بعد کی زندگی پہلے سے کس طرح مختلف ہے۔ تاکہ وہ نئے ازدواجی تعلقات میں ذمہ داری، صبر اور باہمی احترام کے اصول اپنانے کے لیے تیار ہوں۔ اور اپنے شریک حیات کے ساتھ توازن قائم رکھ سکیں۔ 

اس مرحلے پر والدین کو چاہیے کہ وہ غیر مداخلت پسندانہ رویہ اپنائیں، تاکہ شادی شدہ زندگی میں اولاد کا اعتماد اور رشتوں کا توازن برقرار رہے۔ خاص طور پر انہیں اولاد کی رہنمائی کرنی چاہیے۔

کہ ماں اور بیوی کے رشتے میں توازن کیسے قائم رکھا جائے، کیونکہ یہی رشتہ اکثر گھریلو ناچاقی اور اختلافات کا سبب بنتا ہے۔ اس رہنمائی سے ہر تعلق میں احترام اور محبت کی فضا قائم رہتی ہے اور خاندان میں ہم آہنگی برقرار رہتی ہے۔ 

والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو واضح کریں کہ شادی کا اصل مقصد کیا ہے۔ یعنی ایک دوسرے کے ساتھ محبت، احترام، صبر اور باہمی تعاون کے ذریعے ایک مضبوط خاندان کی بنیاد رکھنا کتنا ضروری ہے۔ نیز والدین شادی شدہ اولاد کو ازدواجی تعلقات میں صبر، سمجھوتے، اور شوہر کے حقوق اور بیوی کی ذمہ داریاں سمجھانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ 

اسی طرح والدین کو چاہیے کہ وہ اولاد کو سسرالی رشتہ داروں کے حقوق و فرائض اور تقدس کی اہمیت بھی سکھائیں۔ تاکہ دونوں خاندانوں کے تعلقات مضبوط اور احترام پر مبنی رہیں۔ 

مالی نظم و ضبط، بجٹ بنانے اور بچت کے اصول سکھانا بھی والدین کی رہنمائی میں شامل ہونا چاہیے۔ گھریلو ناچاقیوں میں والدین کا کردار مصالحانہ اور غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ تاکہ شادی شدہ زندگی میں توازن اور اعتماد برقرار رہے۔

اولاد کی تربیت پر والدین کے باہمی تعلقات کا اثر

والدین کے درمیان تعلقات کی نوعیت اور معیار براہِ راست اولاد کی تربیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر والدین کے درمیان احترام، محبت اور ہم آہنگی ہو تو بچے میں اعتماد، سکون اور اخلاقی رویے پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر والدین میں جھگڑے، اختلافات یا سرد مہری ہو تو بچے میں اضطراب، بے چینی اور منفی رویے پیدا ہو سکتے ہیں۔ 

والدین کے درمیان مثبت تعلقات بچے کے لیے ایک عملی نمونہ فراہم کرتے ہیں۔ بچے وہ سیکھتے ہیں جو وہ اپنے والدین کو کرتے دیکھتے ہیں۔ جیسا کہ باہمی احترام، صبر، تعاون اور مسئلہ حل کرنے کے طریقے۔  

ابتدائی عمر میں والدین کا آپس میں تعاون اور سمجھوتہ بچوں کے اندر نظم و ضبط، محبت اور اعتماد پیدا کرتا ہے۔ جبکہ بالغ اور شادی شدہ اولاد کے لیے والدین کا مثالی رویہ ان کے ازدواجی تعلقات کی مضبوطی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

نتیجہ

اولاد کی تربیت ایک مقدس فریضہ ہے جس میں ماں اور باپ کا مشترکہ اور متوازن کردار ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ابتدائی عمر میں والدین کا پیار، توجہ اور نرمی بچوں کی شخصیت سازی کے لیے ضروری ہے۔ جبکہ بڑے ہونے اور شادی شدہ زندگی میں رہنمائی اور مشورہ ان کی زندگی کو متوازن اور مضبوط بناتا ہے۔ اسلام میں اولاد کی تربیت کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ والدین اپنی اولاد کے نگران اور قیامت کے دن جواب دہ قرار دیے جائیں گے۔ 

اسلامی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ بچوں کو محبت، نرمی اور مثالی عمل کے ذریعے تیار کیا جائے۔ آج کے دور میں جب معاشرتی اقدار تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔ والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسلامی اصولوں پر قائم رہیں۔ اور عصری تقاضوں سے نمٹنے کے لیے بہترین حکمت عملی اپنائیں۔ والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کی زندگی کو آسان بنانا نہیں بلکہ انہیں ایک کامیاب، باکردار اور ذمہ دار مسلمان انسان بنانا ہے۔ جو معاشرے کے لیے اثاثہ ثابت ہو۔ 

  

ایف اے کیوز

اولاد کی تربیت کا مطلب کیا ہے؟

اولاد کی تربیت محض تعلیم نہیں بلکہ اخلاق، کردار، دین، سماجی رویے اور خاندانی اقدار کی مجموعی نشوونما ہے۔ یہ عمل زندگی کے ہر مرحلے میں جاری رہتا ہے۔ اور والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچے کو دنیا اور آخرت میں کامیاب انسان بنائیں۔ 

اولاد کی تربیت کب شروع کرنی چاہیے؟

اولاد کی تربیت پیدائش کے فوراً بعد شروع ہو جاتی ہے۔ بلکہ بعض علماء کے نزدیک والدین کے اپنے اعمال سے ہی اس کا آغاز ہو جاتا ہے۔ 

اسلام میں اولاد کی تربیت کے بنیادی اصول کیا ہیں؟

اسلام میں اولاد کی تربیت کے بنیادی اصول توحید، اچھا اخلاق، نماز، سچائی اور والدین کی اطاعت ہیں۔ 

بچوں کی تربیت میں ماں اور باپ میں سے کس کا کردار زیادہ اہم ہے؟

اسلامی تعلیمات کے مطابق دونوں کا کردار برابر اور اہم ہے۔ کیونکہ ماں محبت دیتی ہے اور باپ رہنمائی۔ 

کیا بچوں کے لئے صرف دینی تعلیم کافی ہے؟

اسلام میں اولاد کی تربیت دینی، اخلاقی اور دنیاوی تعلیم تینوں کا متوازن امتزاج ہے۔ اور والدین کو بھی یہی تاکید کی گئی ہے۔ 

شادی شدہ اولاد کی تربیت میں والدین کی حدود کیا ہیں؟

اولاد کی شادی کے بعد والدین کا کردار مشورے اور رہنمائی تک محدود ہونا چاہیے۔ انہیں براہ راست حکم نہیں دینا چاہیے۔ بلکہ اپنے تجربے سے نصیحت کرنی چاہیے۔ بے جا مداخلت سے ازدواجی تعلقات میں تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ 

اولاد کی تربیت میں اسلامی اقدار کو کس طرح نافذ کریں؟

دین اسلام میں اولاد کی تربیت کے لیے عملی مثالیں سب سے بہترین ہیں۔ اولاد کے دل میں قرآن اور سنت سے محبت پیدا کریں۔ نماز، روزہ، صدقہ اور اخلاقی اقدار کو اپنے لئے لازم کریں۔ اولاد خودبخود سیکھ جائے گی۔

اولاد کی ظاہری و باطنی تربیت کیوں اہم ہے؟

ظاہری تربیت میں ادب، آداب، صفائی اور نظم شامل ہیں، جبکہ باطنی تربیت میں اخلاق، ایمان اور نیک نیت شامل ہیں۔ دونوں کا مقصد بچے کو متوازن اور کامیاب انسان بنانا ہے جو دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو۔ 

اولاد کی تربیت کیوں ضروری ہے؟

اولاد کی تربیت اس لئے ضروری ہے تاکہ خاندان مضبوط، معاشرہ خوشحال اور بچوں کی زندگی متوازن ہو۔ اسے محبت، نرمی، عملی مثال، دینی تعلیم اور اصولوں کے ذریعے مرحلہ وار کیا جائے۔ 

تربیتِ اولاد میں ماں کا کردار اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟

ماں بچے کی پہلی درسگاہ اور رہنما ہے۔ ابتدائی عمر میں اسے محبت، اعتماد، بنیادی اخلاق، ادب اور دینی معلومات سکھانی چاہئیں۔ صبر، نرمی اور مثبت رویہ اپنانا بچے کی شخصیت سازی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

اولاد کی تربیت میں جدید چیلنجز سے کیسے نمٹا جائے؟

جدید چیلنجز جیسے سوشل میڈیا، غیر اسلامی اثرات سے نمٹنے کے لیے والدین کو اولاد کی تربیت میں اسلامی اصولوں کو عملی جامہ پہنانا چاہیے۔ بچے کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں۔ اور بغیر ڈر کے بات کریں۔ 

ڈیجیٹل دور میں اولاد کی تربیت کیوں ضروری ہے؟

آج کے ڈیجیٹل دور میں بچے موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے مختلف معلومات اور مواد تک آسانی سے رسائی رکھتے ہیں۔ والدین کی تربیت اس لئے زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے تاکہ بچے صحیح اور غلط میں فرق سمجھیں۔ اخلاقی اقدار اپنائیں۔ اپنی شخصیت اور دین کے اصولوں کے مطابق فیصلے کریں۔ 

Download App

Simple Rishta

We are available from : 10:00 AM to 10:00 PM (Monday to Friday)

I will be back soon

Hey there 👋
How can we help you?
Messenger