طلاق اسلامی شریعت میں انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے۔ لیکن جب یہ ناگزیر ہو جائے تو شریعت نے دونوں فریقوں کے حقوق و فرائض واضح طور پر بیان کر دیے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم حکم مطلقہ عورت کی عدت کا ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں عدت کے بارے میں کئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ جو نہ صرف شرعی احکام کے خلاف ہیں۔ بلکہ عورتوں کی ذہنی اور سماجی مشکلات کو بھی بڑھا دیتی ہیں۔
عدت کیا ہے؟
دراصل عدت وہ مقررہ مدت ہے جو طلاق یا شوہر کے انتقال کے بعد عورت پر لازم ہوتی ہے۔ طلاق کی صورت میں عام طور پر عدت تین حیض یا تین قمری مہینے ہوتی ہے۔ جبکہ حمل کی صورت میں عدت بچے کی پیدائش تک ہوتی ہے
مطلقہ کی عدت سے متعلق غلط فہمیاں
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ جو انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ نکاح، طلاق اور عدت جیسے معاملات میں بھی اسلام نے نہایت حکمت اور توازن کے ساتھ احکامات مقرر کیے ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں مطلقہ کی عدت کے بارے میں کئی غلط فہمیاں، غیر ضروری سختیاں اور خود ساختہ روایات رائج ہو چکی ہیں۔ جن کی وجہ سے عورت کو ذہنی، معاشرتی اور بعض اوقات معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بلاگ انہی غلط فہمیوں کی نشاندہی اور ان کی وضاحت کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔
۱۔ عدت عورت کے لئے سزا ہے
ہمارے معاشرے میں ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ عدت دراصل عورت کو دی جانے والی سزا ہے۔ خاص طور پر جب طلاق عورت کی مرضی یا مطالبے پر ہوئی ہو۔ جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
اسلام میں عدت عورت کی حفاظت اور وقار کے لیے ہے۔ نہ کہ سزا کے طور پر۔ عدت کا مقصد یہ ہے کہ جلد بازی میں کیے گئے فیصلوں پر نظرثانی کا موقع ملے۔ جذبات کو ٹھنڈا ہونے کا وقت دیا جائے۔ اور نسب کے معاملات میں کسی قسم کا ابہام نہ رہے۔ لہذا عدت کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ نسب کی وضاحت، جذباتی استحکام اور خاندان کے نظام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
۲۔ عدت میں عورت گھر سے نہیں نکل سکتی
بہت سی خواتین کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ عدت کے دوران وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتیں۔ نہ کسی سے مل سکتی ہیں۔ عدت کے دوران عورت کا گھر سے نکلنا حرام ہے۔ یہ شدت پسندی شرعی نصوص کے خلاف ہے۔
عدت میں عورت کے لیے معمول کی زندگی گزارنا جائز ہے۔ اسلام نے عدت کے دوران ضرورت کے تحت گھر سے نکلنے کی اجازت دی ہے۔ وہ ضروری کاموں کے لیے، روٹی روزی کمانے، علاج معالجے، یا معقول ضرورتوں کے لیے گھر سے نکل سکتی ہے۔ البتہ اسے بے جا سفر، تفریح یا ایسے مقامات پر جانے سے منع کیا گیا ہے جہاں اجنبی مردوں سے بے پردہ ملاقات کا احتمال ہو۔
۳۔ مطلقہ عورت عدت میں خوش نہیں رہ سکتی
کئی خاندانوں میں مطلقہ عورت کو عدت کے دوران زبردستی غمگین ماحول میں رکھا جاتا ہے۔ رنگین کپڑے پہننے، مسکرانے، یا عام گھریلو سرگرمیوں میں حصہ لینے کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔
اسلام میں عدت کو سوگ قرار نہیں دیا گیا۔ سوگ صرف شوہر کے انتقال پر مخصوص مدت کے لیے ہے۔ طلاق کی عدت میں عورت عام زندگی گزار سکتی ہے۔ بس شرعی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
۴۔ خلع میں عدت نہیں ہوتی
بعض لوگ سوچتے ہیں کہ خلع میں عورت خود طلاق لیتی ہے۔ اس لیے اس پر عدت نہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خلع میں بھی عدت لازمی ہے۔ کیونکہ یہ بھی طلاق کی ایک صورت ہے۔ تاہم، اگر خلع نکاح کے بعد جسمانی تعلق قائم کرنے سے پہلے ہو تو اس میں عدت نہیں۔ لیکن اگر تعلق قائم ہو گیا ہے۔ تو خلع کی بھی وہی عدت ہوگی جو رجعی طلاق میں ہے۔ یعنی تین حیض یا حمل کی صورت میں ولادت تک۔
۵۔ باہمی رضامندی پر عدت کی چھوٹ
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر طلاق باہمی رضامندی سے ہوئی ہو تو عدت ضروری نہیں۔ یہ سوچ نہ صرف غلط بلکہ خطرناک بھی ہے۔ عدت ایک شرعی حکم ہے جو ہر مطلقہ مسلمان عورت پر لاگو ہوتا ہے۔ چاہے طلاق کسی بھی وجہ سے ہوئی ہو۔ باہمی رضامندی، دینداری یا دنیا داری کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
۶۔ عدت میں نکاح کی بات کرنا بھی گناہ ہے
یہ بھی ایک عام غلط فہمی ہے کہ عدت کے دوران عورت کے لیے کسی دوسرے رشتے کا تصور یا ذکر بھی ناجائز ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، عدت کے دوران واضح نکاح یا وعدہ جائز نہیں۔ البتہ اشارے کنائے میں بات (مثلاً مستقبل میں دلچسپی کا اظہار) بعض صورتوں میں جائز ہے۔ یہ فرق نہ سمجھنے کی وجہ سے عورت کو غیر ضروری سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
۷۔ عدت کے دوران سابق شوہر کی کوئی ذمہ داری نہیں
اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ طلاق کے بعد شوہر کی تمام ذمہ داریاں ختم ہو جاتی ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عدت کے دوران (قابلِ رجوع طلاق میں) شوہر پر عورت کا نفقہ اور رہائش لازم ہوتی ہے۔ عورت کو زبردستی گھر سے نکالنا یا اخراجات بند کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ یہ غلط فہمی عورت کو معاشی طور پر کمزور کرنے کا سبب بنتی ہے۔
۸۔ ہر طلاق میں عدت ضروری ہے
عدت گزارنا اللہ تعالیٰ کا صریح حکم ہے۔ جو قرآنِ کریم میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ عورت مطلقہ ہو یا بیوہ، حاملہ ہو یا غیر حاملہ۔ اسے حیض آتا ہو یا وہ ایسی عمر میں ہو جس میں حیض آنا بند ہو چکا ہو۔ ہر حالت میں عدت کے احکام شریعت نے متعین کر دیے ہیں۔
حتیٰ کہ وہ عورت جس کی عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے حیض بند ہو چکا ہو۔ اور جو بظاہر بچے جننے کے قابل بھی نہ رہی ہو۔ اس کے لیے بھی قرآنِ مجید نے عدت کی مدت خود بیان فرمائی ہے۔
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عدت کا حکم کسی مخصوص حالت یا عمر کے ساتھ محدود نہیں بلکہ یہ ایک جامع اور حکمت پر مبنی شرعی قانون ہے۔
عام طور پر معاشرے میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ چاہے طلاق کسی بھی قسم کی ہو۔ رجعی ہو، بائن ہو، خلع ہو یا کسی اور صورت میں، ہر حال میں عدت لازم ہوتی ہے۔ یہ خیال دراصل طلاق کی اقسام اور ان کے شرعی احکام سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔
شریعت میں طلاق کی اقسام
اسلامی شریعت میں طلاق کی مختلف اقسام درج ذیل ہیں۔ اور ہر قسم میں عدت کا حکم یکساں نہیں ہوتا۔
۔ طلاقِ رجعی
یہ وہ طلاق ہے جس میں شوہر کو عدت کے اندر رجوع (واپس لینے) کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اس طلاق میں عدت لازم ہے، کیونکہ نکاح پوری طرح ختم نہیں ہوتا۔
۔ طلاقِ بائن
یہ طلاق دو طرح کی ہوتی ہے۔
طلاقِ بائن صغریٰ (پہلی یا دوسری طلاق کے بعد، جب رجوع کا حق باقی نہ رہے)۔ اور طلاقِ بائن کبریٰ (تیسری طلاق، جس کے بعد نکاح مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے)۔ ان دونوں صورتوں میں عموماً عدت ہوتی ہے۔ مگر رجوع کا حق نہیں ہوتا۔
۔ خلع
شریعت کے مطابق خلع وہ صورت ہے جس میں عورت اپنے حقِ مہر یا کسی مالی عوض کے بدلے شوہر سے علیحدگی اختیار کرتی ہے۔ خلع میں بھی بعض صورتوں میں عدت ہوتی ہے۔
وہ صورت جس میں عدت نہیں ہوتی
یہ بات سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ اگر نکاح کے بعد شوہر اور بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہی نہ ہوا ہو۔ تو ایسی صورت میں طلاق یا خلع کے بعد عدت واجب نہیں ہوتی۔ قرآنِ کریم میں اس حکم کو بالکل واضح الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے۔
اے ایمان والو! جب تم عورتوں سے نکاح کرو، پھر انہیں اس سے پہلے طلاق دے دو کہ ان سے تعلق قائم کرو، تو ان پر تمہارے لیے کوئی عدت لازم نہیں۔
سورۃ الاحزاب
یہ آیت اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ عدت ہر طلاق میں لازم نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کا تعلق نکاح کی نوعیت اور ازدواجی تعلق کے قائم ہونے یا نہ ہونے سے ہے۔
۹۔ نکاح نافذ نہ ہوا ہو تو بھی عدت ہے
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر رخصتی سے پہلے طلاق ہو جائے تو بھی عدت ضروری ہے۔ اگر نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے طلاق ہو جائے تو عدت نہیں ہے۔ البتہ مہر کی ادائیگی ضروری ہے۔
۱۰۔ بیوہ اور مطلقہ کی عدت ایک جیسی ہے
ایک بیوہ کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔ جبکہ مطلقہ حیض والی کی عدت تین حیض ہے۔ جبکہ لوگ اکثر دونوں کی عدت کو یکساں سمجھتے ہیں۔ یہ تفریق قرآن میں صاف بیان کی گئی ہے۔ بیوہ کی عدت زیادہ ہے تاکہ شوہر کی موت کا صدمہ برداشت کرنے اور مالی معاملات کو دیکھنے کے لیے زیادہ وقت مل سکے۔
نتیجہ
عدت کے احکام اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ عورت کے حقوق کا تحفظ، معاشرتی اقدار کی حفاظت اور خاندانی نظام کی مضبوطی کے لیے ہیں۔ مگر ہمارے معاشرے نے اسے غلط فہمیوں، سختیوں اور غیر ضروری پابندیوں کا مجموعہ بنا دیا ہے۔ لہذا مطلقہ کی عدت سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کر کے ہمیں شرعی احکام کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا چاہیے۔
اس کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء اور خواتین کی تنظیمیں مل کر معاشرے میں موجود ان غلط تاثرات کو دور کریں۔ اور قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح تعلیمات عام کریں۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ان احکام کو سزا نہیں بلکہ رحمت اور ہدایت کے طور پر قبول کرے۔
ایف اے کیوز
تین طلاق کے بعد عورت عدت کہاں گزارے گی؟
اگر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہوں تو مرد و عورت کا ایک ساتھ میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا شرعاً ناجائز ہے، لہٰذا فوری علیحدگی ضروری ہے۔ اگر طلاق کے بعد بھی وہ میاں بیوی کی طرح ساتھ رہے ہوں تو دونوں پر صدقِ دل سے توبہ و استغفار لازم ہے۔ عدت گزارنے کے بارے میں حکم یہ ہے کہ طلاق کے وقت عورت جس گھر میں مقیم ہو، اسی گھر میں عدت گزارے گی۔ بلا شدید ضرورت (جیسے جان، عزت یا شدید مجبوری)۔
اس گھر سے نکلنا جائز نہیں۔ البتہ چونکہ تین طلاق کے بعد شوہر عورت کے لیے اجنبی (غیر محرم) ہو جاتا ہے، اس لیے اگر اسی گھر میں رہنا ناگزیر ہو تو مکمل شرعی پردے کے ساتھ اور علیحدہ حیثیت میں رہنا ضروری ہے، میاں بیوی کی طرح نہیں
عورت عدت کس طرح گزارے؟ اور عدت مکمل ہونے کے بعد اس کا طرزِ زندگی کیا ہوگا؟
عدت کس طرح گزاری جائے گی، اس کا دارومدار عدت کی قسم پر ہوتا ہے۔ اگر عدت طلاقِ رجعی کی ہو تو عورت شوہر کے گھر ہی میں رہے گی۔ بلا ضرورت باہر آنے جانے سے پرہیز کرے گی۔ شوہر سے پردہ لازم نہیں ہوگا اور وہ مناسب زیب و زینت اختیار کر سکتی ہے۔ تاکہ رجوع کی گنجائش باقی رہے۔ طلاقِ بائنہ کی عدت میں عورت شوہر سے مکمل پردہ کرے گی۔ بناؤ سنگار ترک کرے گی۔ اور بلا ضرورت گھر سے باہر نہیں نکلے گی۔
جبکہ عدتِ وفات میں عورت اسی گھر میں عدت گزارے گی جہاں شوہر کے ساتھ رہتی تھی۔ نامحرموں سے مکمل پردہ کرے گی۔ زیب و زینت اور خوشبو سے اجتناب کرے گی۔ اور عدت کے دوران نکاح یا نکاح کی بات چیت جائز نہیں ہوگی۔ عدت مکمل ہونے کے بعد عورت عام مطلقہ یا بیوہ کی طرح زندگی گزار سکتی ہے۔ پردے کا اہتمام کرے گی۔ اور اگر چاہے تو دوسرا نکاح بھی کر سکتی ہے۔
مطلقہ کی عدت کا خرچہ کس پر ہے؟
طلاق کی صورت میں عدت کا خرچہ شرعاً شوہر پر لازم ہوتا ہے۔ تاہم اس کی کوئی مقررہ مقدار متعین نہیں کی گئی۔ خرچے کا معیار شوہر کی مالی حیثیت اور عورت کی ضروریات کے مطابق ہوگا۔ اور فقہاء کے مطابق عام طور پر وہی نان نفقہ واجب ہے جو شوہر طلاق سے پہلے ادا کرتا تھا۔ عدت شوہر کے گھر میں گزارنا لازم ہے۔ اس لیے باپردہ رہائش اور نان نفقہ فراہم کرنا بھی شوہر کی ذمہ داری ہے۔ چاہے عورت عدت شوہر کے گھر میں گزارے یا شوہر کی اجازت سے میکے میں۔ البتہ اگر عورت شوہر کی اجازت کے بغیر کسی اور جگہ چلی جائے۔ حالانکہ شوہر نے عدت کی مناسب سہولت فراہم کی ہو، تو ایسی صورت میں عدت کا خرچہ شوہر پر لازم نہیں رہتا۔ لیکن وہ بطور احسان دے تو جائز ہے۔
طلاق یافتہ عورت کی عدت کتنی ہوتی ہے؟
ایک طلاق یافتہ عورت کی عدت نکاحِ صحیح کے بعد ہمبستری یا خلوتِ صحیحہ ہونے کی صورت میں مختلف ہوتی ہے۔ اگر عورت کو حیض آتا ہو تو اس کی عدت تین مکمل حیض ہے۔ اگر عمر زیادہ ہونے یا کم عمری کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو عدت تین قمری مہینے ہے۔ اور اگر قمری مہینے کی پہلی تاریخ کے علاوہ طلاق ہوئی ہو تو عدت نوّے دن شمار کی جائے گی۔ اگر عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت بچے کی پیدائش تک ہے۔ چاہے طلاق کے فوراً بعد ہی ولادت ہو جائے۔ البتہ اگر صرف نکاح ہوا ہو اور نہ ہمبستری ہوئی ہو اور نہ خلوتِ صحیحہ، تو ایسی طلاق میں عدت لازم نہیں ہوتی۔
مطلقہ کی عدت کب سے شروع ہوگی؟
ایک مطلقہ کی عدت کی مدت پہلی طلاق کے بعد شروع ہوگی۔ چاہے شوہر رجوع کرے یا نہ کرے۔ اگر شوہر پہلی طلاق کے بعد رجوع نہ کرے تو عدت کی مدت فوری طور پر پہلی طلاق کے بعد شروع ہو جاتی ہے۔ تین طلاق کے بعد الگ کوئی مدت شروع نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس وقت طلاق بائن ہو چکی ہوتی ہے اور رجوع کا حق باقی نہیں رہتا۔
حاملہ عورت کی عدت کیا ہے؟
ایک حاملہ عورت کی عدت وضعِ حمل یعنی بچے کی پیدائش تک ہوتی ہے۔ چاہے یہ عدت طلاق کی ہو یا شوہر کی وفات کی۔ اس کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں ہے۔ اس لیے اگر طلاق یا شوہر کی وفات کے چند دن یا حتیٰ کہ چند لمحے بعد بھی بچہ پیدا ہو جائے تو عورت کی عدت پوری سمجھی جائے گی۔
عدت میں نکاح کا کیا حکم ہے؟
طلاق یا بیوگی کی عدت میں نکاح شرعاً ناجائز اور باطل ہے۔ مطلقہ عورت دوسرے مرد سے نکاح کرنے سے پہلے اپنی عدت پوری کرے۔ چاہے طلاق یا شوہر کی وفات کی وجہ سے ہو۔ عدت کے دوران نکاح یا نکاح کی صریح گفتگو بھی جائز نہیں۔ البتہ اشارے یا کنایت کے ذریعے بات کرنا بعض صورتوں میں ممکن ہے۔ اس دوران عورت کا نان و نفقة اور رہائش سابقہ شوہر کے ذمہ واجب ہے۔ بشرطیکہ وہ شوہر کے گھر عدت گزار رہی ہو یا اس کی اجازت سے والدین کے گھر۔ عدت مکمل ہونے کے بعد عورت آزاد ہو کر کسی دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے۔ اور سابقہ شوہر کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔
عدالتی خلع میں عدت کب شروع ہوگی؟
عدالتی خلع کی صورت میں عدت خُلع کی ڈگری جاری ہونے کی تاریخ سے شروع ہوتی ہے۔


