JazzCash-icon    EasyPaisa-icon   Credit Cards   GooglePay-icon   ApplePay-icon
ایپ میں پیمنٹ صرف گوگل پے اور ایپل پے کے ذریعے ممکن ہے۔ جاز کیش، ایزی پیسہ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ویب سائٹ پر ہوگی۔
In-app payments support only Google Pay & Apple. JazzCash, EasyPaisa & Credit Card payments are available on the website.
ایپ میں پیمنٹ صرف گوگل پے اور ایپل پے کے ذریعے ممکن ہے۔ جاز کیش، ایزی پیسہ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ویب سائٹ پر ہوگی۔
In-app payments support only Google Pay & Apple. JazzCash, EasyPaisa & Credit Card payments are available on the website.

ازدواجی زندگی میں بعض اوقات ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب میاں بیوی کے درمیان نباہ ممکن نہیں رہتا۔ اسلام نے مرد کو طلاق کا حق دیا ہے۔ تو عورت کو بھی خلع کے ذریعے علیحدگی اختیار کرنے کا حق عطا کیا ہے۔ آج کے دور میں عدالتی خلع ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔ جہاں عورت عدالت کے ذریعے شادی ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔

کیا یہ خلع شرعاً درست ہے؟ اس کا طریقہ کار کیا ہے؟ آئیے اس موضوع کا شرعی اور قانونی پہلوؤں سے مکمل جائزہ لیتے ہیں۔

اسلام میں خلع کا حقیقی تصور کیا ہے؟

خلع عربی لفظ "نزع” سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی اتارنا یا الگ کرنا کے ہیں۔ شریعت کے مطابق خلع کی تعریف یہ ہے کہ عورت اپنی مرضی سے مہر یا کوئی مال واپس کرکے شوہر سے علیحدگی حاصل کرے۔ قرآن مجید میں سورہ البقرہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ 

فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ

اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ دونوں اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت کے لیے کوئی حرج نہیں کہ وہ کچھ مال دے کر آزادی حاصل کرے۔ 

اس آیت سے واضح ہے کہ خلع عورت کا شرعی حق ہے۔ بشرطیکہ وہ واقعی ازدواجی زندگی برقرار نہ رکھ سکے۔ یہ کسی عیش و عشرت یا وقتی ناراضی کا ذریعہ نہیں۔ بلکہ ایک سنگین فیصلہ ہے۔ جو مجبوری کے تحت کیا جاتا ہے۔ 

خلع کے معاملے میں حضرت ثابت بن قیس کی بیوی کا واقعہ مشہور ہے۔ جو سنن نسائي میں درج ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا۔ میں ثابت بن قیس کے اخلاق اور دین میں کسی کمی و کوتاہی کا الزام نہیں لگاتی۔ لیکن میں اسلام میں رہتے ہوئے کفر و ناشکری کو ناپسند کرتی ہوں۔ 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.

"اَتُرَدِّیْنَ عَلَیْهِ حَدِیْقَتَکِ؟”

کیا تم اسے اپنے باغ لوٹانا چاہتی ہو؟

 جب عورت نے ہاں کہا۔ تب رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس سے فرمایا۔

"اقْبَلِ الْحَدِیْقَةَ وَأَطَلِّقْهَا

باغ لے لو اور اسے طلاق دے دو۔

خلع لینے کا شرعی طریقہ کار

اسلامی شریعت میں خلع کا عمل عام طور پر باہمی رضامندی سے مکمل ہوتا ہے۔ 

۱۔ عورت شوہر سے خلع کا مطالبہ کرتی ہے۔ 

۲۔ اگر شوہر راضی ہو جائے تو عورت مہر یا طے شدہ رقم واپس کرتی ہے۔ 

۳- شوہر "خلعتک” یا "قبلت الخلع” کہہ کر نکاح ختم کرتا ہے۔ 

اس طرح باہمی رضامندی سے خلع کا عمل مکمل ہو جاتا ہے۔ جس کے بعد عدت لازم ہوتی ہے۔ لیکن اگر شوہر خلع پر راضی نہ ہو اور عورت کے پاس کوئی معقول وجہ ہو۔ مثلاً ظلم، بدسلوکی، یا نان و نفقہ کی عدم فراہمی، تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔

خلع کا قانونی طریقہ

پاکستان میں خلع حاصل کرنے کا عمل فیملی کورٹ کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ یعنی پاکستانی قانون کے مطابق عورت اگر شوہر سے خلع لینا چاہے تو فیملی کورٹ میں درخواست دائر کرتی ہے۔ جس کا قانونی عمل درج ذیل ہے۔ 

درخواست جمع کرانا

عورت فیملی کورٹ میں خلع کے لیے دعویٰ دائر کرتی ہے۔ جس میں وہ نکاح کی تفصیلات اور علیحدگی کی وجوہات بیان کرتی ہے۔ 

نوٹس کا اجرا

عدالت شوہر کو طلب کرتی ہے۔ تاکہ مصالحت کی کوشش کی جا سکے۔ 

صلح کی کوشش

اگر مصالحت نہ ہو سکے۔ توعدالت نکاح تحلیل کرنے کا حکم جاری کرتی ہے اور خلع کا فیصلہ دے دیتی ہے۔

ڈگری برائے خلع

عدالت خلع کی ڈگری جاری کرتی ہے۔ جو قانونی طور پر نکاح ختم کر دیتی ہے۔ 

یونین کونسل میں تصدیق

عدالتی خلع کے بعد یہ فیصلہ یونین کونسل میں جمع کروایا جاتا ہے۔ تاکہ باضابطہ اندراج ہو سکے۔

خلع نامہ لکھنے کا طریقہ

خلع نامہ میں درج ذیل تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔ 

۱۔ شوہر اور بیوی کا مکمل نام، پتہ، اور نکاح کی تاریخ 

۲۔ حق مہر کی تفصیلات 

۳۔ خلع کی وجوہات 

۴۔ عورت کا بیان کہ وہ مہر یا متفقہ رقم واپس کر رہی ہے 

۵۔ شوہر کی رضامندی (اگر ہو تو) 

۶۔ مہر کی وصولی کی تصدیق 

۷۔ گواہوں کے دستخط 

اگر خلع عدالتی ہو۔ تو یہ فارم عدالت کے فیصلے کے مطابق مکمل کیا جاتا ہے۔

خلع کی شرائط 

۱۔ عورت بالغ اور عاقل ہو۔ 

۲۔ خلع مجبوری یا دباؤ میں نہ لیا گیا ہو۔ 

۳۔ شوہر یا عدالت کی جانب سے خلع کی تصدیق ہو۔ 

۴۔ عورت مہر یا مال واپس کرے (اگر شوہر سے طے ہوا ہو)۔ 

۵۔ شوہر کا واضح الفاظ میں خلع دینا۔ 

۶۔ خلع طلاق بائن کی صورت میں ہے، یعنی رجوع نہیں ہو سکتا 

۷۔ خلع کے بعد عدت لازمی ہو۔

عدالتی خلع شرعاً معتبر کب ہوتا ہے؟

اگر شوہر خلع پر راضی نہیں۔ لیکن عورت کے پاس واقعی کوئی معقول اور شرعی وجہ ہے۔ جیسے ظلم، تشدد، خرچ نہ دینا، یا ازدواجی تعلق ختم ہونا۔ تو عدالت کا دیا گیا خلع شرعاً معتبر سمجھا جاتا ہے۔

یہ اصول فقہاء کے اس اجتہاد پر مبنی ہے کہ اگر قاضی یا عدالت عورت کی مجبوری دیکھ کر خلع کی ڈگری جاری کرے تو وہ فسخِ نکاح کے قائم مقام ہے۔

عدالتی خلع کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

پاکستان میں عدالتی خلع کو فقہی طور پر فسخ نکاح کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ یعنی اگر عدالت خلع کی ڈگری دے دے۔ تو شرعاً نکاح ختم ہو جاتا ہے۔ خواہ شوہر راضی ہو یا نہ ہو۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ عدالت خلع سے پہلے مصالحت کی کوشش کرے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں بھی حکم دیا گیا ہے۔ 

یہاں مزید واضح کرتے چلیں کہ فقہ حنفی کے موقف کے مطابق، خلع شوہر کی رضامندی کے بغیر صحیح نہیں ہے۔ ان کے مطابق خلع ایک معاملہ مالی ہے۔ لہذا ایجاب و قبول دونوں طرف سے چاہیے۔ اگر شوہر راضی نہ ہو اور عدالت نے زبردستی خلع دیا۔ تو یہ شرعاً خلع نہیں بلکہ فسخ نکاح ہے۔ اور فسخ نکاح بھی کچھ شرائط پر جائز ہے۔ جیسے نان نفقہ نہ دینا، ظلم و زیادتی وغیرہ 

جبکہ اہل حدیث اور سلفی علماء کے مطابق، عدالت کو اختیار ہے کہ وہ شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی نکاح ختم کر سکتی ہے۔ خاص طور پر جب عورت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہو۔

خلع کی عدت کتنی ہوتی ہے؟

خلع کے بعد عورت پر ایک حیض کی عدت لازم ہوتی ہے۔ اگر عورت حاملہ ہو تو عدت ولادت تک ہوتی ہے۔ بعض فقہاء کے نزدیک طلاق کی عدت اور خلع کی عدت میں کوئی فرق نہیں۔ اور وہ اسے تین حیض قرار دیتے ہیں۔ مگر جمہور فقہاء خصوصاً امام ابنِ عباسؓ اور امام مالکؒ کے نزدیک خلع کی عدت ایک حیض ہے۔

یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ خلع کی عدت طلاق رجعی کی طرح نہیں۔ یہ طلاق بائن ہے۔ اس لیے رجوع کا حق نہیں۔

خلع کے مسائل

اگرچہ خلع عورت کا شرعی حق ہے۔ مگر اس کے نفاذ کے دوران کئی فروعی اور عملی مسائل سامنے آتے ہیں۔ بعض اوقات عدالت، شوہر یا خاندان کی طرف سے پیدا ہونے والی رکاوٹیں خواتین کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔ 

اسلام میں نکاح کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اسے محض دنیاوی معاہدہ نہیں بلکہ عبادت اور ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ تاہم جب یہی رشتہ باہمی سکون کے بجائے اذیت اور ناانصافی کا سبب بن جائے۔ تو شریعت عورت کو خلع کے ذریعے باعزت علیحدگی کا حق دیتی ہے۔ 

خلع کے عمل میں خواہ شوہر کی رضامندی کا مسئلہ ہو۔ یا عدت اور بچوں کی حوالگی کا معاملہ۔ ہر سوال کا جواب جاننا عورت کے لیے ضروری ہے۔ ذیل میں خلع سے متعلق چند عام مسائل اور ان کے جوابات پیش کیے جا رہے ہیں۔

۱۔ جب شوہر خلع پر راضی نہ ہو تو کیا عورت عدالت جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ اگر شوہر ظلم کرے یا ازدواجی تعلق ختم کر دے، تو عورت عدالت جا سکتی ہے۔ عدالت دونوں فریقین کو سن کر اگر وجوہات درست پائے تو خلع کا فیصلہ دے سکتی ہے۔

۲۔ کیا شوہر کی غیر موجودگی میں خلع ہو سکتا ہے؟

اگر شوہر بیرونِ ملک ہو۔ یا کہیں غائب ہو اور مقام معلوم نہ ہو۔ یا عدالت کے نوٹس کا جواب نہ دے۔ تب بھی عدالت یکطرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری کر سکتی ہے۔ بشرطیکہ نوٹس کے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہوں۔ عدالت ایسے مقدمات میں شوہر کی غیر موجودگی کے باوجود فیصلہ سنانے کا اختیار رکھتی ہے۔

عدالتی خلع کے بعد بچوں کی کسٹڈی کا فیصلہ کیسے ہوتا ہے؟

بچوں کی کسٹڈی خلع سے الگ معاملہ ہے۔ جس کا فیصلہ عدالت بچے کے بہترین مفاد، عمر، تربیتی ماحول اور ماں باپ کے حالات دیکھ کر کرتی ہے۔ خلع لینے سے عورت ماں ہونے کے حقوق سے محروم نہیں ہوتی۔ بلکہ عدالت ہمیشہ بچے کے مفاد کو اولین حیثیت دیتی ہے۔ 

عمومی طور پر سات سال سے کم عمر بچوں کی پرورش ماں کے سپرد کی جاتی ہے۔ کیونکہ اس عمر میں بچے کو ماں کی توجہ اور دیکھ بھال زیادہ درکار ہوتی ہے۔ جبکہ سات سال سے زائد عمر کے بچوں کے معاملے میں عدالت بچے کی مرضی یا والد کی اہلیت کو مدنظر رکھتی ہے۔ 

تاہم، نان و نفقہ اور دیگراخراجات ہر صورت میں والد کی ذمہ داری رہتی ہے۔ شرعاً بھی بچے کی پرورش و تربیت اور مالی ذمہ داری والد پر لازم ہے۔ چاہے کسٹڈی ماں کے پاس ہو یا باپ کے پاس۔

کیا عدالتی خلع لینے والی عورت بغیر عدت کے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے؟

نہیں۔ خلع کے بعد بھی عدت لازم ہے۔ بغیر عدت کے نکاح کرنا شرعاً ناجائز ہے۔ عورت کو کم از کم ایک حیض کی عدت پوری کرنا ضروری ہے۔

اختتام

خلع ایک حساس اور پیچیدہ مسئلہ ہے۔ جو شرعی اصولوں اور قانونی ضروریات کے درمیان توازن کا تقاضا کرتا ہے۔ جب تک میاں بیوی کے درمیان صلح ممکن ہو۔ اسلام نے اسی پر زور دیا ہے۔ تاہم، جب حالات ناقابل برداشت ہوں۔ تو عورت کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ عدالت سے رجوع کرے۔ 

عدالتی خلع عورت کے لیے ایک ایسا راستہ ہے جو اسے ناانصافی، جبر یا ناممکن ازدواجی تعلق سے آزادی فراہم کرتا ہے۔ اسلام نے عورت کو محض ظلم سہنے پر مجبور نہیں کیا۔ بلکہ اسے عزت و وقار کے ساتھ علیحدگی کا حق دیا ہے۔ عدالتی کے ذریعےخلع اسی حق کا عملی اظہار ہے۔ جو شریعت اور قانون دونوں کے دائرے میں عورت کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔  

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حق کو غلط فہمیوں یا سماجی دباؤ کی نذر نہ کیا جائے۔ بلکہ عدالتی سے خلع کو اس کے حقیقی مقصد یعنی انصاف، سکونِ قلب، اور عزتِ نفس کی بحالی کے طور پر سمجھا اور استعمال کیا جائے۔

 

ایف اے کیوز

کیا اسلام میں عدالتی خلع جائز ہے؟

جی ہاں۔ اگر عورت واقعی ازدواجی زندگی نباہنے سے عاجز ہو جائے اور شوہرعلیحدگی یا طلاق پر راضی نہ ہو۔ توعورت عدالت کے ذریعے خلع لے سکتی ہے۔ اسلامی فقہ کے مطابق قاضی یا عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ نکاح فسخ کر دے۔ 

کیا عدالتی خلع سے نکاح ختم ہو جاتا ہے؟

جی ہاں۔ عدالتی خلع سے نکاح ختم ہو جاتا ہے۔ شرعاً اسے فسخِ نکاح کہا جاتا ہے۔ خلع کی ڈگری جاری ہوتے ہی عورت آزاد ہو جاتی ہے۔ البتہ عدت پوری کرنا لازم ہے۔ 

اسلام عورت کو عدالتی خلع کا حق کیوں دیتا ہے؟

اسلام عورت کو ظلم، جبر یا ناانصافی سے بچانے کے لیے خلع کا حق دیتا ہے۔ یہ عورت کے تحفظ اور وقار کا ضامن ہے۔ تاکہ اگر ازدواجی رشتہ ناقابلِ برداشت ہو جائے۔ تو وہ اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کر سکے۔ 

خلع کے لیے عدالت کا فیصلہ کافی ہے یا شوہر کی رضامندی لازم ہے؟

اگر شوہر راضی ہو تو خلع باہمی رضامندی سے مکمل ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر شوہر انکار کرے۔ تو عدالت کا فیصلہ کافی ہوتا ہے۔ عدالت کا دیا گیا خلع شرعاً بھی معتبر تصور کیا جاتا ہے۔ 

Download App

Simple Rishta

We are available from : 10:00 AM to 10:00 PM (Monday to Friday)

I will be back soon

Hey there 👋
How can we help you?
Messenger