خیبر پختونخواہ کے سبزہ زاروں سے اُٹھتی ہوئی دھوپ جب کوہِ ہمالیہ کی چٹانوں پر پڑتی ہے۔ تو وادی ناران جیسا مقام زمین پر جنت کا سایہ بن کر اُبھر آتا ہے۔ جھیل سیف الملوک کے نیلگوں پانی میں اُترتی گھٹائیں اپنی ہی جھلک دیکھ کر شرما جاتی ہیں۔ اور فضا میں ایک لطیف سا جادو پھیل جاتا ہے۔ مگر انہی دنوں، جب خزاں کی سنہری ٹھنڈک نے پہاڑوں کو سونا سا رنگ دے رکھا تھا۔ سوشل میڈیا کی ایک “سیاہ گھٹا” نے اس جنت نظیر وادی کو اچانک افواہوں کے سائے میں لپیٹ لیا۔
""ناران میں داخلے کے لیے نکاح نامہ ضروری ہے
یہ جملہ بظاہراتنا معصوم تھا۔ جیسے کوئی بچہ پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہو کر شوخی سے آواز لگائے۔ اور وادی اُس کی گونج کو سچ مان بیٹھے۔ چند ہی لمحوں میں یہ آواز فیس بک، ٹوئٹر اور واٹس ایپ پر گونجنے لگی۔
لوگ چہ میگوئیاں کرنےلگے۔ کہ کیا واقعی اب ناران صرف شادی شدہ جوڑے جا سکتے ہیں؟
اس خبر سے یہ عالم تھا گویا کسی نے جنت کے دروازوں پر پردہ ڈال دیا ہو۔ اور سنگِ مرمر کی وادیوں میں اچانک خاموشی اُتر آئی ہو۔
یہ جملہ ایسا تھا جیسے کوئی پتھر دل شاعر رات کی تاریکی میں پہاڑ کی چٹان پر نقش کر گیا ہو۔ اور صبح ہوتے ہی وہی نقش لوگوں کی زبانوں پر سچائی بن کر تہہ در تہہ پھیلنے لگے۔ ایک افواہ سے دلوں میں ایسی دھند چھائی کہ پہاڑوں کی اصل دھوپ بھی مدھم پڑنے لگی۔
ناران میں غیر شادی شدہ جوڑوں کے داخلے پر پابندی
ستائیس ستمبر کو فیس بک پر ایک صارف نے ایک گرافک پوسٹ کیا۔ جس میں ایک مبینہ بورڈ دکھایا گیا تھا۔ جس پر لکھا تھا۔
"ناران میں داخلے کے لیے نکاح نامہ ضروری ہے"
سوشل میڈیا کی ایک مختصر سی پوسٹ نے پر لگا لیے۔ لمحوں میں افواہ نے پورے ملک کا چکر لگا لیا۔ بیرونِ ملک سے بھی صدائیں سنائی دینے لگیں۔ جہاں پاکستانی کمیونٹی نے حیرت اور دلچسپی اور دکھ کے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔
پہاڑوں کی چوٹیوں پر بیٹھی یخ بستہ ہوائیں بھی اس خبر کی تپش سے پگھلنے لگیں۔ لوگ اپنی سیاحتی منصوبہ بندی پر نظرِ ثانی کرنے لگے۔ اور ہوٹل مالکان کے چہروں پر تشویش کی لکیر ابھر آئی کہ کہیں یہ افواہ اُن کی بکنگز کو منسوخ نہ کروا دے۔
حقائق کیا کہتے ہیں؟
اس خبر کی چنگاری جتنی تیزی سے پھیلی تھی۔ حقیقت کی بوند اتنی ہی تیزی سے برسی۔ سوشل میڈیا کے شور شرابے کے بعد جب معاملہ سنجیدہ ذرائع تک پہنچا۔ تو مانسہرہ پولیس نے فوری طور پر وضاحت جاری کی۔ مانسہرہ کے ڈی پی او، شفیع اللہ گنڈا پور نے تمام دعوؤں کو بے بنیاد، من گھڑت اور گمراہ کن قرار دیا۔ اور واضح کیا کہ ناران میں ایسی کوئی پابندی نافذ نہیں کی گئی۔
اسی طرح تحصیل بالاکوٹ کے اسسٹنٹ کمشنر، محمد نادر، نے بھی اس خبر کی سختی سے تردید کی اور واضح کیا کہ انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی سرکاری ہدایت جاری نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ
"پولیس کی چیکنگ صرف طے شدہ سیکیورٹی ایس او پیز کے مطابق کی جاتی ہے تاکہ وادی میں امن و امان برقرار رہے اور سیاح محفوظ رہیں”
اور پھر وہی ہوا جو ہونا تھا۔ حقیقت کی پرت کھل گئی۔ وہ پوسٹ جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھی۔ نہ کسی سرکاری محکمے کی تھا۔ نہ ایسا کوئی بورڈ کسی چیک پوسٹ پر نصب کیا گیا تھا۔ یہ محض فوٹو شاپ کی مہارت اور ایک ایسی خواہش کا نتیجہ تھا۔ جس نے حقیقت کو جھوٹ کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔
مقامی ردعمل
دلچسپ بات یہ ہے کہ وادی ناران کے مقامی افراد نے بھی سوشل میڈیا پر وضاحت پیش کی۔
ایک شہری نے تبصرہ کیا۔
"میں خود ناران سے ہوں۔ یہاں اس طرح کی کوئی پابندی نہیں۔”
ان تبصروں اور سرکاری وضاحتوں کے بعد یہ بات واضح ہو گئی۔ کہ ناران میں نکاح نامہ دکھانے کی شرط ایک افواہ کے سوا کچھ نہیں۔
لیکن یہ واقعہ ہمیں ایک بار پھر یاد دہانی کرواتا ہے۔ کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر خبر حقیقت نہیں ہوتی۔ ایک فرضی تصویر یا مبہم پوسٹ چند گھنٹوں میں ہزاروں لوگوں کے ذہنوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔ پاکستان جیسے مذہبی اور سماجی لحاظ سے حساس معاشرے میں ایسی خبریں بحث، الجھن اور تقسیم پیدا کر دیتی ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ ناران جیسے سیاحتی مقامات نہ صرف ملک کی سیاحت کو فروغ دیتے ہیں۔ بلکہ ہزاروں مقامی لوگوں کا ذریعہ معاش بھی انہی پر منحصر ہے۔ ایسے میں جھوٹی خبریں ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
ممکنہ عملی تجاویز
سوشل میڈیا پر چند افواہوں نے غیر شادی شدہ جوڑوں کی آمد پر مبینہ پابندی کی خبریں گردش کیں۔ اگرچہ انتظامیہ نے وضاحت کی ہے کہ ایسی کوئی باقاعدہ پابندی عائد نہیں کی گئی، مگر اس بحث نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے۔
کیا سیاحت کے نام پر بعض رویے غیر ازدواجی تعلقات کو فروغ دے کر مقامی اقدار، ثقافت اور قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہے؟
اگر ایسا ہے تو اس کا حل محض پابندیوں میں نہیں بلکہ ایک شفاف، ڈیجیٹل اور مسلسل نگرانی والے نظام میں پوشیدہ ہے جو ذمہ دار سیاحت کو یقینی بنائے
ذیل میں چند ممکنہ تجاویز ہیں۔ جس سے نہ صرف وادی اک ماحول بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ بلکہ نظام بھی شفاف ہو سکتا ہے۔
۱۔ ہوٹل رجسٹریشن سسٹم مضبوط بنایا جائے۔ ہر مہمان کے شناختی کارڈ کی تصدیق نادرا کے ڈیٹا بیس سے کی جائے۔
۲۔ آن لائن بکنگ کو مرکزی نظام سے منسلک کیا جائے۔ تاکہ ہر آنے والے سیاح کا اندراج محفوظ رہے۔ سیاحوں کا شناختی کارڈ یا پاسپورٹ آن لائن پورٹل پر اپلوڈ کریں۔ تاکہ شناخت ہو جائے۔
۳۔ ناران کی داخلی چیک پوسٹس پر انٹری ریکارڈ رکھا جائے۔ تاکہ علاقے میں آنے اور جانے والے افراد کا مکمل ڈیٹا موجود ہو۔ اس مقصد کے لئے سیاحوں کو ٹورسٹ پاس دئیے جا سکتے ہیں۔
۴۔ سیاحتی اخلاقیات کے بارے میں آگاہی مہمات چلائی جائیں۔ تاکہ لوگ خود احساس ذمہ داری کے ساتھ سفر کریں۔ سیاحتی ایپ اور تمام بکنگ پلیٹ فارمز پر ”ریسپانسبل ٹورزم” کی چھوٹی سی ویڈیو چلائی جائے جس میں مقامی ثقافت، لباس، شور کم کرنے اور کچرا نہ پھیلانے کی ہدایات ہوں۔
۵۔ ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کو ضابطہ اخلاق کا پابند بنایا جائے۔ تاکہ مقامی ثقافت اور اقدار متاثر نہ ہوں۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سیاحت صرف تفریح نہیں۔ بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ہم احترام، شائستگی اور شعور کے ساتھ سفر کریں تو نہ کوئی پابندی لگے گی۔ نہ ہی کوئی وادی ہم سے دور ہو گی۔
اصل پیغام
ناران ہمیشہ سے خوبصورتی، مہمان نوازی اور پرسکون وادی رہی ہے۔ یہاں آنے والی فیملیز، جوڑوں اور سیاحوں کا مقصد صرف قدرت کے جادوئی حسن سے لطف اندوز ہونا ہے۔ انتظامیہ کی ترجیح بھی یہی ہے کہ ہر مہمان محفوظ، مطمئن اور خوشگوار تجربے کے ساتھ واپس جائے۔
اب جب ناران کی وادی اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ کھلی ہے۔ تو یاد رکھیں۔ اگر آپ کے دل میں محبت ہے۔ آپ کے رویے میں احترام ہے۔ اورقدرت کا ادب ہے۔ تو کوئی طاقت آپ کو اس جنت نظیر وادی کی سیاحت سے نہیں روک سکتی۔
سوشل میڈیا کی افواہوں اور جھوٹی خبروں کے بادل چھٹ گئے ہیں۔ اور پہاڑوں کی گود دوبارہ صاف اور روشن ہے۔ چلیں، دوبارہ سفر کریں۔ ناران ہمیں بلا رہا ہے۔ نہ کسی پابندی کے ساتھ۔ اور نہ کسی شرط کے ساتھ۔۔
خیبرپختونخوا کی وادیوں نے ہمیشہ سچے دلوں کو گھر دیا ہے۔
اور افواہوں کو ہمیشہ پہاڑوں کی گود میں دفن کیا ہے۔
ناران کا موسم سیاحت کے لیے کب موزوں ہے؟
وادی ناران جانے کا سب سے موزوں موسم مئی سے ستمبر کے درمیان ہوتا ہے، جب موسم خوشگوار، راستے کھلے اور جھیلیں وادیوں کے حسن سے بھرپور نظر آتی ہیں۔ موسم سرما یعنی نومبر تا مارچ یہاں پانچ سے دس فٹ تک برف باری ہوتی ہے۔ اور اس وقت صرف وہی سیاح آتے ہیں۔ جو برف باری میں ٹریکنگ کا شوق رکھتے ہوں۔
ناران کا سفر کرنے والوں کے لئے چند مفید معلومات کیا ہیں؟
۱۔ سفر سے پہلے اور راستے میں موسم کا حال چیک کریں۔ اور موسم کے مطابق کپڑے ساتھ رکھیں۔
۲۔ ہوٹل یا رہائش کی پہلے سے بکنگ کریں۔
۳۔ مقامی رہنماؤں کی ہدایات اور حفاظتی اقدامات پر عمل کریں۔
ناران جانے کا نیا اور آسان راستہ کون سا ہے؟
ناران جانے کے لیے سب سے آسان اور جدید راستہ مانسہرہ سے ناران روٹ ہے۔ جو واضح نشانات اور سیاحتی سہولیات کے ساتھ محفوظ سفر کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
دیگر راستے
۱۔ مظفرآباد – لوہار گلی – گڑھی حبیب والا – یہ راستہ خطرناک ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث محتاط رہیں۔
۲۔ شاردہ نیلم ویلی – نوری ٹاپ – جھلکڈ – یہ راستہ بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔
۳۔ رتی گلی – اللہ والی جھیل – یہ پیدل راستہ ہے۔ عام سیاح استعمال نہ کریں۔


