آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک گلوبل ویلیج بنا دیا ہے۔ وہیں انسانی تعلقات کی نوعیت بھی بدل رہی ہے۔ پاکستان سمیت مشرقی معاشروں میں، جہاں ازدواجی نظام کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔ وہاں غیر ازدواجی تعلقات ایک خاموش لیکن تیزی سے پھیلنے والی حقیقت بن چکے ہیں۔ یہ تعلقات کچھ کے لیے لمحاتی تسکین کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن درحقیقت یہ خاندانی نظام، بچوں کی نفسیات، اور معاشرتی ساخت کو ہمیشہ کے لیے برباد کر دیتے ہیں۔
غیر ازدواجی تعلقات: پردے کے پیچھے چھپی زندگی
ماضی میں غیر ازدواجی تعلقات موجود ضرور تھے۔ لیکن وہ عام یا کھلے طور پر تسلیم شدہ نہیں تھے۔ دیہاتی اور چھوٹے شہری معاشروں میں یہ بات اکثر خفیہ رہتی تھی۔ اور اسے معاشرتی دباؤ یا مذہبی تعلیمات کی وجہ سے چھپایا جاتا تھا۔ محدود کمیونیکیشن ذرائع، سخت خاندانی نگرانی، اور سماجی رسومات کی وجہ سے ایسے تعلقات کو برقرار رکھنا مشکل تھا۔
تاہم، کچھ تاریخی مثالیں بتاتی ہیں کہ اعلیٰ طبقے میں یا شہروں کے محدود حلقوں میں رومانوی تعلقات کے نتیجے میں شادی کے بغیر بھی تعلق قائم کیے جاتے تھے۔ مگر یہ عام زندگی کا حصہ نہیں تھے۔
یعنی دیکھا جائے تو غیر ازدواجی تعلقات ہمیشہ سے انسانی معاشرت میں موجود رہے ہیں۔ لیکن ان کی نوعیت، قبولیت، اور اثرات مختلف ادوار اور ثقافتوں میں مختلف رہے ہیں۔
مشرقی اور خاص طور پر پاکستانی معاشرے میں، یہ تعلقات نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ اکثر سماجی طور پر ناقابل قبول سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم، آج کے دور میں سوشل میڈیا، ڈیٹنگ ایپس، اور آن لائن کمیونیکیشن نے ان تعلقات کو آسان اور زیادہ عام بنا دیا ہے۔ جس سے نوجوان نسل کی زندگی میں اس کے اثرات اور بھی نمایاں ہو گئے ہیں۔
پاکستانی معاشرہ: روایات اور دباؤ
مشرقی معاشرہ ایک مضبوط خاندانی نظام پر مبنی ہے۔ جہاں شادی کو صرف دو افراد کا نہیں بلکہ دو خاندانوں کا رشتہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں طلاق کو بدنامی سمجھا جاتا ہے۔ اور خواتین کو اکثر صبر کا درس دیا جاتا ہے۔
اس نظام میں، اگر کسی شادی میں جذباتی یا جسمانی دوری ہو جائے۔ تو اس پر بات کرنا اہم نہیں سمجھا جاتا۔ شادی کے بعد زندگی میں کیا تبدیلیاں ضروری ہیں۔ اس کی تربیت نہیں دی جاتی۔ جس کی وجہ سے کئی بار غیر ازدواجی تعلقات جنم لیتے ہیں۔
پاکستان میں غیر ازدواجی تعلقات کی وجوہات کئی پہلوؤں سے جڑی ہوئی ہیں۔ خاص طور پر شادی شدہ مردوں اور عورتوں میں۔ اکثر یہ تعلقات جذباتی یا جسمانی کمی، ازدواجی زندگی میں خالی پن، یا توجہ کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ بعض اوقات گھریلو دباؤ، روزمرہ کی ذمہ داریاں، یا تعلقات میں بات چیت کی کمی بھی لوگوں کو ایسے تعلقات کی طرف لے جاتی ہے۔
مردوں میں اکثر سماجی آزادی اور کام یا بیرونی ماحول میں مواقع کی زیادتی اس کا سبب بنتی ہے۔ جبکہ عورتیں اکثر جذباتی خالی پن یا شادی میں توجہ کی کمی کی وجہ سے ایسے تعلقات میں ملوث ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا اور آن لائن رابطے کے ذرائع نے تعلقات قائم کرنا آسان بنا دیا ہے۔ جس سے یہ مسئلہ زیادہ عام اور نظر آنے لگا ہے۔
مغربی معاشرہ: آزادی یا انارکی
دیکھا جائے تومغربی معاشروں میں، جہاں انفرادی آزادی کو فوقیت دی جاتی ہے۔ وہاں شادی اور تعلقات کی تعریف مختلف ہے۔ وہاں شادی کو مقدس رشتہ کم اور ایک کانٹریکٹ زیادہ سمجھا جاتا ہے۔ انفرادی آزادی کے تحت اگر شوہر یا بیوی کو جذباتی یا جسمانی عنصر کم لگے تو وہ آسانی سے “اوپن ریلیشن شپ” یا خفیہ راستے تلاش کر لیتے ہیں۔ کام، سفر اور تعلیمی مصروفیات کے باعث اگر جوڑے ازدواجی تعلقات کو کم وقت دے پاتے ہیں۔
مزید یہ کہ ڈیٹنگ ایپس نے ان کے لئے رابطوں کو آسان اور وفا کو مشکل کر دیا پے۔ ۔ نتیجہ وہی ہے۔ خاندانی ٹوٹ پھوٹ، بچوں میں اعتماد کی کمی اور معاشرتی انارکی۔ آزادی کے نام پر یہاں بھی تسکین لمحاتی اور تباہی دیرپا ہے۔
غیر ازدواجی تعلقات کے اثرات
ایسے تعلقات اکثر وقتی تسکین کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ محبت، توجہ، یا جسمانی خواہشات کو فوری طور پر پورا کرنے کے لیے لوگ ان تعلقات میں پڑتے ہیں۔ یہ ایک لمحاتی خوشی فراہم کرتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر صورتوں میں ان کے طویل مدتی اثرات منفی ہوتے ہیں۔
جذباتی اثرات
اکثر تعلقات میں شریک افراد جذباتی عدم استحکام کا شکار ہو جاتے ہیں۔ محبت یا اعتماد کی توقعات پوری نہ ہونے پر دل ٹوٹنا عام بات ہے۔
سماجی اثرات
اگر تعلقات کسی کے خاندان یا سماجی حلقے کو معلوم ہو جائیں۔ تو اس سے نہ صرف فرد کی بلکہ پورے خاندان کی ساکھ پر اثر پڑ سکتا ہے۔
قانونی اثرات
پاکستان میں غیر ازدواجی تعلقات بعض حالات میں قانونی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے ملک کے قوانین اسلامی تعلیمات پر مبنی ہیں۔ اگر یہ تعلقات کسی بھی طرح سے زنا یا کسی قسم کی زیادتی کے دائرے میں آ جائیں۔ تو یہ جرم شمار ہوتے ہیں۔ اور قانون کے مطابق سزا کا حق بنتا ہے۔
غیر ازدواجی تعلقات میں سوشل میڈیا کا کردار
آج کا دور ان تعلقات کو نہایت آسان بنا رہا ہے۔ سوشل میڈیا ایپس جیسا کہ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، سنیپ چیٹ کے غلط استعمال اور مغربی طرز کی حامل ڈیٹنگ ایپس نے نوجوانوں کوآزاد پلیٹ فارمز مہیا کر دئیے ہیں۔ جہاں وہ اپنے جذباتی اور جسمانی تعلقات کے لیے آسانی سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔
پہلے کسی کو جاننے اور اس سے رابطے کے لئے وقت اور جغرافیائی حدود آڑے آتی تھیں۔ مگر اب آن لائن رابطے فوری ہو جاتے ہیں۔ اور ان آن لائن تعلقات میں شناخت چھپانے سے لے کر جھوٹی معلومات دینے، اور خیانت کی صورتحال بہت عام ہے۔ سوشل میڈیا نے بعض حلقوں میں غیر ازدواجی تعلقات کو نسبتا زیادہ قبولیت دی ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں میں۔
غیر ازدواجی تعلقات کی روک تھام
معاشرے میں غیر ازدواجی تعلقات کی روک تھام کے لیے اقدامات کو مختلف سطحوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
انفرادی سطح پر
ہر فرد کو اپنی دینی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا چاہیے۔
والدین بچوں کو شادی کا اصل مقصد ضرور سمجھائیں کہ شادی صرف محبت نہیں۔ بلکہ ایک مکمل ذمہ داری ہے۔
شادی شدہ جوڑوں کو چاہیے کہ ایک دوسرے سے کھل کر بات کریں۔ مسائل حل کریں اور جذباتی و جسمانی ضرورتوں کو نظرانداز نہ کریں۔
سوشل میڈیا کا محتاط اور ضرورت کے تحت استعمال کریں۔ اپنی حدود متعین کریں اور غیر ضروری تعلقات سے گریز کریں۔ والدین بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔
اجتماعی و معاشرتی سطح پر
والدین کو چاہیے کہ نوجوانوں کی شادی بروقت کریں۔ تاکہ وہ ناجائز تعلقات کی طرف راغب نہ ہوں۔
تعلیمی ادارے اپنا کردار ادا کریں۔ اسکولز اور یونیورسٹیز میں اخلاقی اور خاندانی اقدار پر مبنی آگاہی پروگرامز کا انعقاد کیا جائے۔
مساجد میں علماء اپنا کردار ادا کریں۔ خطبات اور دروس کے ذریعے نوجوانوں کو ایسے تعلقات کے نقصانات اور دین کی تعلیمات سے آگاہ کریں۔
سرکاری سطح پر
اگرچہ غیر ازدواجی تعلق ایک پوشیدہ فعل ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ سرکاری سطح پر قانون کا نفاذ ہو۔ زنا اور جنسی جرائم کے خلاف قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے۔
نکاح کی رجسٹریشن، جہیز کے دباؤ، اور غیر ضروری شادی اخراجات کو کم کرنے کے لیے پالیسی سازی کی جائے۔
میڈیا اپنا کردار ادا کرے۔ ڈراموں اور فلموں میں بے راہ روی یا غیر اخلاقی تعلقات کی ترویج پر قابو پایا جائے۔
اس مسئلے کا حل صرف مذہبی یا سماجی ممانعت نہیں۔ بلکہ ایک مکمل نظام کی ضرورت ہے۔ بہ ہر حال، انفرادی اصلاح، خاندانی مضبوطی، اور ریاستی اقدامات مل کر اس رجحان کو کم کر سکتے ہیں۔
اختتام
پاکستان میں شادیوں کی ناکامی کی اہم وجہ میں سے ایک غیر ازدواجی تعلقات بھی ہیں۔ ناجائز تعلقات چاہے سوشل میڈیا کی وجہ سے ہوں۔ یا جذباتی خلا کے باعث۔ عارضی اور لمحاتی تسکین ضروردیتے ہیں۔ لیکن اس کا نتیجہ خاندانی ٹوٹ پھوٹ، بچوں کی نفسیاتی تباہی، اور معاشرتی بگاڑ ہوتا ہے۔
پاکستانی اور مشرقی معاشروں میں جہاں شادی کو مقدس فرض سمجھا جاتا ہے۔ وہاں اسے بچانے کے لیے رواداری، بات چیت، اور ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ لمحاتی تسکین نسلوں کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔
کیا غیر ازدواجی تعلقات ایک نفسیاتی مسئلہ ہے؟
جی نہیں۔ غیر ازدواجی تعلقات کوئی نفسیاتی مرض نہیں۔ تاہم، اس کے پیچھے جذباتی خلا، خود اعتمادی کی کمی، یا ذہنی دباؤ جیسے مسائل نفسیاتی ہوسکتے ہیں۔ جن کی تشخیص اور علاج درکار ہوتا ہے۔
شوہر کا نا محرم عورتوں سے ناجائز تعلق ہو تو بیوی کو کیا کرنا چاہیے؟
نامحرم عورت سے تعلقات رکھنا، بلا ضرورت بات کرنا، ہنسی مذاق یا ملاقات کرنا شرعاً جائز نہیں۔ شوہر پر لازم ہے کہ فوراً ایسے تعلقات ختم کرے۔ توبہ و استغفار کرے۔ اور بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔ بیوی کو چاہیے کہ حکمت اور نرمی کے ساتھ شوہر کو سمجھائے۔ اس کے حقوق ادا کرے۔ اس کی خدمت اور خوشنودی کا اہتمام کرے۔ اور دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے۔ الغرض، صبر اور حکمت کے ساتھ رشتہ نبھانے کی پوری کوشش کرے۔
غیر ازدواجی تعلقات بنانے میں مرد قصوروار ہے یا عورت؟
قصور فرد کا ہوتا ہے، جنس کا نہیں۔ غیر ازدواجی تعلقات میں مرد ہو یا عورت، دونوں بالغ رضامندی سے قدم بڑھاتے ہیں۔ اور اپنے عمل کے خود ذمہ دار ہیں۔ قانون، اخلاق اور نفسیات کی نظر سے ذمہ داری برابر ہے۔
غیر ازدواجی تعلقات سے باہر کیسے آئیں؟
غیر ازدواجی تعلقات سے نکلنے کے لیے سچی توبہ کریں۔ تعلق فوراً ختم کریں۔ مثبت مصروفیات اپنائیں۔ اور ضرورت ہو تو دینی یا نفسیاتی رہنمائی لیں۔
بیوی کے غیر ازدواجی تعلقات کا علم شوہر کو ہو جائے تو اس کے لیے کیا شرعی حکم ہے؟
اگر بیوی ماضی کی غلطی پر سچی توبہ کر چکی ہو۔ اور اب صالح زندگی گزارنا چاہتی ہو تو شوہر کو چاہیے کہ اسے موقع دے۔ پردہ پوشی کرے۔ اور اچھا برتاؤ کرے۔ لیکن اگر وہ اب بھی غلطی میں مبتلا ہے۔ تو شوہر کو ایک طلاق دے کر الگ ہونے کی اجازت ہے۔


