JazzCash-icon    EasyPaisa-icon   Credit Cards   GooglePay-icon   ApplePay-icon
ایپ میں پیمنٹ صرف گوگل پے اور ایپل پے کے ذریعے ممکن ہے۔ جاز کیش، ایزی پیسہ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ویب سائٹ پر ہوگی۔
In-app payments support only Google Pay & Apple. JazzCash, EasyPaisa & Credit Card payments are available on the website.
ایپ میں پیمنٹ صرف گوگل پے اور ایپل پے کے ذریعے ممکن ہے۔ جاز کیش، ایزی پیسہ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ویب سائٹ پر ہوگی۔
In-app payments support only Google Pay & Apple. JazzCash, EasyPaisa & Credit Card payments are available on the website.

اسلامی خاندانی نظام میں نکاح اور طلاق دونوں انتہائی سنجیدہ اور ذمہ دارانہ معاملات ہیں۔ جب میاں بیوی کے درمیان اختلافات حد سے بڑھ جائیں۔ اور سمجھوتے کا کوئی راستہ نہ بچے تو اسلام نے طلاق کی اجازت دی ہے۔ لیکن ساتھ ہی بار بار طلاق کو ناپسند بھی کیا ہے۔ انہی مسائل کے پس منظر میں حلالہ کا موضوع سامنے آتا ہے۔ حلالہ ایک ایسا مسئلہ جسے صحیح طرح سمجھنا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ اس کے بارے میں غلط فہمیاں، ابہام اور بدعات معاشرے میں عام ہو چکی ہیں۔ 

حلالہ کیا ہے؟

حلالہ یا "تحلیل” کا شرعی مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے۔ تو وہ عورت اس کے لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے۔ دوبارہ نکاح کا واحد شرعی طریقہ یہ ہے کہ وہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے۔ وہ نکاح صحیح طریقے سے قائم رہے۔ اور پھر دوسرے شوہر سے طلاق ہو جائے۔ یا وہ فوت ہو جائے۔ اس کے بعد پہلا شوہر نکاح کر سکتا ہے۔ قرآن میں واضح حکم ہے۔ 

فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَه 

سورہ البقرہُ

پس اگر وہ اسے طلاق دے دے، تو وہ اس کے لیے بعد میں حلال نہیں ہوگی جب تک کہ وہ شوہر کے علاوہ کسی اور سے شادی نہ کرے

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ تیسری طلاق کے بعد عورت کا پہلے شوہر کے لیے حلال ہونا ایک شرط کے تابع ہے۔ دوسرے شوہر سے نکاح اور اس نکاح کا قیام یہ عمل "تحلیل” یا "حلالہ” کہلاتا ہے۔ 

حلالہ کی حدیث

احادیثِ نبوی میں واضح طور پر موجود ہے کہ حلالہ کیا ہے۔ اور اسےمنصوبہ بندی کے ساتھ کرنا سخت گناہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ 

لعن اللہ المحلل والمحلل لہ

سنن ابی داود

اللہ کی لعنت ہے اس شخص پر جو حلالہ کرتا ہے، اور اس پر بھی جس کے لیے حلالہ کیا جاتا ہے

اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ جو شخص حلالہ کی نیت سے نکاح کرے۔ یا کسی عورت سے محض یہ مقصد رکھ کر عارضی نکاح کرے کہ اسے پہلے شوہر کے لیے حلال بنا دے۔ وہ سخت لعنت اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ 

حلالہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

شوہر اگر بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو وہ اس پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو جاتی ہے۔ اور اس کے لیے صرف اس صورت میں حلال ہو سکتی ہے۔ کہ عدت گزرنے کے بعد وہ کسی دوسرے مرد سے نکاحِ صحیح کرے۔ اس نکاح میں حقیقی تعلق قائم ہو۔

اور پھر وہ دوسرا شوہر اپنی مرضی سے طلاق دے دے۔ یا اس کا انتقال ہو جائے۔ اس کے بعد عورت عدت گزار کر سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے۔ اسی فطری اور شرعی عمل کو شرعی حلالہ کہا جاتا ہے۔ 

واضح رہے کہ حلالہ کوئی عالم کا بنایا ہوا حیلہ یا خود ساختہ راستہ نہیں۔ بلکہ قرآن و حدیث میں بیان کردہ ایک شرعی حکم ہے۔ اس حکم میں اختیار عورت کو دیا گیا ہے۔ کہ وہ چاہے تو دوسرا نکاح کرے اور چاہے تو نہ کرے۔

اسی طرح اگر وہ نکاح کرتی ہے۔ تو دوسرے شوہر کی مرضی ہے کہ وہ نکاح کے بعد طلاق دے یا نہ دے۔ اور اگر طلاق ہو جائے۔ تب بھی یہ عورت کی اپنی مرضی ہے کہ وہ سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح کرے یا نہ کرے۔  

یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نکاح کی اہمیت اسلام میں بہت زیادہ ہے۔ حلالہ کا اصول اس بات کو یقینی بناتا ہے۔ کہ نکاح کے رشتے کی قدر و قیمت برقرار رہے۔ اور طلاق کے نتیجے میں عورت اور مرد دونوں کے حقوق محفوظ رہیں۔ شریعت میں حلالہ کا حکم صرف ان صورتوں میں ہے۔  

۱۔ یہ نکاحِ ثانی اصلی، دائمی اور غیر مشروط ہونا چاہیے

۲۔ تحلیل کی نیت سے نکاح حرام ہے۔ جمیع علماء کا اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص باقاعدہ ڈیل کر کے صرف اس لیے نکاح کرے کہ عورت کو پہلے شوہر کے لیے حلال کر دے تو یہ نکاح خود باطل ہے۔ 

۲۔ حلالہ عملاً کوئی سنت یا مستحب عمل نہیں۔ نہ یہ کوئی قابل فخرعمل ہے بلکہ ایک غیر شرعی کام ہے۔ 

۳۔ تین طلاقوں کے بعد نکاحِ ثانی کیے بغیر عورت پہلی شادی کی طرف واپس نہیں جا سکتی 

۴۔ اس نکاح میں ازدواجی تعلق قائم ہونا ضروری ہے 

۵۔ دوسرا شوہر عورت کو محض اس لیے طلاق نہ دے کہ وہ سابقہ شوہر کے پاس واپس چلی جائے 

۶۔ مزید یہ کہ نکاح میں اگر بعد میں طلاق ہو جائے یا شوہر وفات پا جائے تو عورت عدت پوری کر کے پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔ 

یہ قانون یا حلالہ کا مقصد مردوں کو بغیر سوچے سمجھے طلاق دینے سے روکنے کے لیے ہے۔

حلالہ کا طریقہ کیا ہے؟

اسلامی قانون کے مطابق حلالہ کرایا نہیں جاتا۔ بلکہ حالات کے نتیجے میں خود بخود ہوتا ہے۔ اس کا طریقہ درج ذیل ہے۔ 

۱۔ عورت کسی دوسرے شخص سے شرعی شرائط کے مطابق نکاح کرے۔ 

۲۔ حق مہر مقرر کیا جائے اور نکاح کی رسم ادا کی جائے۔ 

۳۔ نکاح کو عارضی یا محدود مدت کے لیے نہ کیا جائے۔ 

۴۔ دونوں میاں بیوی کے درمیان جماع واقع ہو۔ 

۵۔ پھر اگر دوسرا شوہر خود طلاق دے دے۔ یا فوت ہو جائے تو عورت پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے 

۶۔ حلالہ کسی طے شدہ منصوبے کے تحت نہیں ہونا چاہئے۔ 

حلالہ کی شرائط کون سی ہیں؟ 

صحیح اور شرعی حلالہ کے لیے چند بنیادی شرائط ہیں۔ 

۱۔ شوہر بیوی کو تین طلاقیں دے چکا ہو 

۲۔ دوسرا نکاح وقت کے تعین یا شرط کے بغیر ہو 

۳۔ نکاح کے بعد مکمل اور جائز ازدواجی تعلق قائم ہونا ضروری ہے 

۴۔ دوسرے شوہر کو عورت کو طلاق دینے پر مجبور نہ کیا جائے 

۵۔ دوسرا نکاح محض حلالہ کی نیت سے نہ کیا جائے 

۶۔ عدتوں کا مکمل اہتمام کیا جائے 

ان میں سے کسی شرط کی خلاف ورزی نکاح کو ناجائز یا فاسد بنا سکتی ہے

حلالہ کی نیت سے نکاح کرنا کیسا ہے؟ 

یہ موضوع سب سے اہم ہے۔ کیونکہ معاشرے میں عموماً حلالہ کی نیت سے نکاح کرنے کا غلط تصور پایا جاتا ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص صرف اس نیت سے نکاح کرے۔ کہ میں اس عورت سے صرف اس لیے نکاح کر رہا ہوں۔ تاکہ وہ اپنے پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے۔ تو یہ نکاح باطل ہے۔ اس میں شامل دونوں افراد پر لعنت ہے۔ اور یہ زنا کے مترادف ہے۔ 

اختتامی کلمات

حلالہ کوئی رسم یا حل نہیں۔ بلکہ طلاق کے غلط استعمال کو روکنے کا ایک قدرتی اور حفاظتی نظام ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ مرد طلاق دینے میں سنجیدہ اور محتاط ہو۔ کیونکہ شادی کا اصل مقصد محبت، تعلق اور زندگی کا استحکام ہے۔ 

لہٰذا صحیح اسلامی تعلیم یہی ہے کہ طلاق آخری راستہ ہو۔ اور اگر کبھی تین طلاق کی نوبت آ جائے تو حلالہ کوطریقہ یا آسان حل سمجھنے کے بجائے اس کے شرعی اصولوں، حدود اور حکمت کو سمجھا جائے۔ اور اسکے مطابق فیصلہ کیا جائے۔

 

ایف اے کیوز

کیا حلالہ کرانا اسلام میں جائز ہے؟

تحلیل کی نیت سے حلالہ کرانا سراسر حرام ہے۔ تاہم اگر عورت کسی سے نکاح کرے اور وہ نکاح قیام پائے۔ پھر طلاق ہو جائے تو اس کے بعد پہلے شوہر کے لیے نکاح کرنا جائز ہے۔

کیا حلالہ کے لیے عورت کی رضامندی ضروری ہے؟

جی ہاں۔ جبراً نکاح جائز نہیں۔ عورت کی رضامندی ضروری ہے۔

کیا عورت تحلیل نکاح کی شرط لگا سکتی ہے؟

ہرگز نہیں۔ اگر عورت یہ شرط لگائے کہ میں صرف اس لیے نکاح کر رہی ہوں تاکہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جاؤں۔ تو یہ نکاح باطل ہے۔

کیا حلالہ کی نیت سے نکاح کرنا جائز ہے؟

نہیں۔ حلالہ کی نیت سے نکاح کرنا، یعنی وقتی ارادے یا منصوبہ بندی سے نکاح کرنا، حدیث کے مطابق حرام اور لعنت کا باعث ہے۔ نکاح ہمیشہ دائمی اور سنجیدہ نیت سے کیا جانا چاہیے۔ 

کیا ہر طلاق کے بعد حلالہ ضروری ہے؟

نہیں۔ صرف تین طلاق کے بعد حلالہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک یا دو طلاق کی صورت میں رجوع یا نیا نکاح بغیر حلالہ ممکن ہے۔

حلالہ کی نیت سے نکاح کرنے والے پر کیا سزا ہے؟

حدیث کے مطابق، جو شخص صرف یہ ارادہ کر کے نکاح کرے کہ عورت کو پہلے شوہر کے لیے حلال کر دیا جائے، اللہ تعالیٰ کی لعنت کا مستحق ہے۔ اس لیے حلالہ کی نیت سے نکاح سخت گناہ ہے اور اسے انجام دینا شرعی طور پر منع ہے۔

کیا حلالہ کسی مولوی یا قاری کے ذریعے کرایا جا سکتا ہے؟

جی نہیں۔ حلالہ کوئی انسان کا ایجاد کردہ عمل یا سروس نہیں ہے۔ یہ شرعی حکم ہے اور عورت کا اختیار ہے کہ وہ خود طے کرے کہ وہ دوسرا نکاح کرے یا نہ کرے۔ مولوی یا قاری اسے کرانے کے نام پر دخل اندازی نہیں کر سکتے

حلالہ کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کب جائز ہے؟

جب دوسرا نکاح ہم بستری کے ساتھ مکمل ہو جائے اور وہ نکاح طلاق یا وفات کی وجہ سے ختم ہو، عورت عدت گزارے، تب پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح جائز ہو جاتا ہے۔ 

کیا حلالہ کی کوئی حد یا وقت مقرر ہے؟

حلالہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب تین طلاق ہو چکی ہوں۔ اور عورت عدت گزار چکی ہو۔ عدت کے بغیر دوسرا نکاح یا پہلے شوہر سے رجوع جائز نہیں۔

حلالہ اور نکاحِ متعہ میں کیا فرق ہے؟

حلالہ ایک فطری اور شرعی نتیجہ ہے۔ جبکہ نکاحِ متعہ ارادی اور وقتی نکاح ہے جسے اسلام نے منع کیا ہے۔ حلالہ کا دوسرا نکاح حقیقی اور دائمی ہونا ضروری ہے، نہ کہ محض منصوبہ بندی کے تحت۔

کیا حلالہ کے بعد عورت کی عدت لازمی ہے؟

جی ہاں۔ عدت مکمل کیے بغیر وہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہوتی۔ عدت کے اصول قرآن اور حدیث میں واضح طور پر بیان ہیں۔

Download App

Simple Rishta

We are available from : 10:00 AM to 10:00 PM (Monday to Friday)

I will be back soon

Hey there 👋
How can we help you?
Messenger