JazzCash-icon    EasyPaisa-icon   Credit Cards   GooglePay-icon   ApplePay-icon
ایپ میں پیمنٹ صرف گوگل پے اور ایپل پے کے ذریعے ممکن ہے۔ جاز کیش، ایزی پیسہ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ویب سائٹ پر ہوگی۔
In-app payments support only Google Pay & Apple. JazzCash, EasyPaisa & Credit Card payments are available on the website.
ایپ میں پیمنٹ صرف گوگل پے اور ایپل پے کے ذریعے ممکن ہے۔ جاز کیش، ایزی پیسہ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ویب سائٹ پر ہوگی۔
In-app payments support only Google Pay & Apple. JazzCash, EasyPaisa & Credit Card payments are available on the website.

شادی کی تقریبات ہمیشہ سے ہی خوشیوں کا میلہ رہی ہیں۔ شادی کی تاریخ رکھتے ہی دلہا دلہن کے دلوں میں خواب سجنے لگتے ہیں۔ رشتہ دار اور دوست خوشیوں کے لمحات بانٹنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ بازاروں کے چکر بڑھنے لگتے ہیں۔ لیکن اس بار خوشیوں کی راہ میں ایک چمکدار رکاوٹ کھڑی ہو گئی ہے۔ اور وہ رکاوٹ ہے، سونا۔ جی ہاں سال ۲۰۲۵ میں سونے کی قیمت میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو ملا۔ آج سونے کے نرخ آسمانوں کو چھو رہے ہیں۔ اور زمین پر موجود عام عوام کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ 

دلہن کے ہاتھوں میں چوڑیاں اور کنگن، گلے میں چاندی یا سونے کے ہار، انگوٹھیاں اور جھمکے نہ صرف زیبائش کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ محبت، وقار اور سماجی مقام کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ لیکن لیکن حالیہ برسوں میں سونے کے ریٹ میں غیر معمولی اضافہ نے سونے کے زیورات کو ایک خواب بنا دیا ہے۔ 

سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ 

رواں سال گولڈ ریٹ پاکستان کے ساتھ دوسرے ممالک میں بھی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ 1970 کی دہائی کے بعد سب سے زیادہ تیز رفتار اضافہ ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کے اعلان کے بعد عالمی تجارت متاثر ہوئی۔ اور یہی اس اضافے کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ 

سونا ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جو مالیاتی بحران یا معاشی گراوٹ کے دوران اپنی قدر برقرار رکھنے یا بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سال سونے کے نرخوں میں اضافے کے پیچھے کئی عوامل ہیں۔ جیسا کہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، کمزور امریکی ڈالر، بڑھتی ہوئی عالمی طلب، اور مرکزی بینکوں کی خریداری۔ یہ سب سونے کو سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بناتے ہیں۔ 

قیمتی دھاتوں کے ڈیلر اور اسٹوریج کمپنی سلور بلین کے بانی گریگرسن کے مطابق، گذشتہ ایک سال میں ان کے صارفین کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ اگرچہ کسی وقت قیمت میں کمی ہو سکتی ہے۔ مگر موجودہ معاشی منظر نامے کے پیش نظر اگلے پانچ سال تک سونے کا ریٹ بڑھتے رہنے کے امکانات زیادہ نظر آتے ہیں۔ 

سونا – خواب یا حقیقت؟ 

سونے کی روایت انسانیت کے قدیم دور سے جڑی ہوئی ہے۔ مشرق وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک، سونے نے ہمیشہ دولت، حفاظت اور رواج کی علامت کے طور پر اپنی اہمیت رکھی ہے۔ پچھلے وقتوں میں بادشاہ سونے چاندی کو بطور انعام اور تحفہ عنایت کیا کرتے تھے۔  

اسی طرح مشرقی ممالک میں شادی کے مواقع پر سونے کی چیزیں تحفے اور زیبائش کے طور پر دی جاتی ہیں۔ تاکہ یہ نہ صرف دلہن خوش ہو۔ بلکہ خاندان کی اقتصادی حیثیت کا بھی اظہار ہو۔ 

لیکن موجودہ دور میں سونے کے نرخوں میں اضافے نے یہ تصویر بدل دی ہے۔ پاکستان میں ایک تولہ سونے کی قیمت چار لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ چند دہائیوں قبل، ایک معقول بجٹ میں دلہن کے لیے زیورات کا انتخاب ممکن تھا۔ لیکن آج اسی معیار کے زیورات کے لیے کئی گنا زیادہ سرمایہ درکار ہے۔ یہ اضافہ صرف مالی دباؤ پیدا نہیں کرتا۔ بلکہ ذہنی دباؤ اور توقعات کے تصادم کو بھی جنم دیتا ہے۔ 

سونے کی قیمت اور سماجی توقعات 

پاکستان میں بھی شادی کے موقع پر سونا ہمیشہ سے عزت اور معیار کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ لڑکے والوں کی طرف سے دلہن کے زیورات بنانے ہوں یا لڑکی والوں کی طرف سے ساس نندوں کو تحفے دینے ہوں۔ سونا لازمی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سونے کی بڑھتی قیمت نے کئی خاندانوں کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ 

کیونکہ پاکستانی شادیوں میں سونا صرف زیور نہیں بلکہ عزت، رتبہ اور سماجی حیثیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے جب سونے کی قدر و قیمت بڑھ جاتی ہے۔ اور خاندان سونا دینے یا لینے سے ہچکچاتے ہیں۔ تو اس کے کئی سماجی اور نفسیاتی اثرات سامنے آتے ہیں۔ 

معاشرتی دباؤ اور تنقید

زیورات صرف ذاتی پسند یا دلہن کی خوشی کا ذریعہ نہیں ہیں۔ بلکہ اکثر معاشرتی دباؤ اور رواج کا بھی حصہ بن جاتے ہیں۔ خاندان اور دوستوں کی توقعات، سوشل میڈیا پر دیگر شادیوں کے مناظر، اور روایتی رسومات میں سونے کی مقدار، یہ سب دلہن اور اس کے خاندان پر ایک غیر ضروری بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ 

اگر دلہن کے والدین یا دلہا کے خاندان کی طرف سے سونا کم یا بالکل نہ دیا جائے۔ تو رشتے دار اور دوست اکثر اس پر تبصرہ کرتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ خاندان نے اپنی حیثیت یا دلہن کی قدر کم کر دی ہے۔ چاہے حقیقت میں انہیں کتنے ہی مالی مسائل درپیش ہوں۔ ان کے لئے لازم ہے کہ سونے کے زیورات شادی میں ضرور بنائے جائیں۔ 

خاندان میں چپقلش

سونے کے زیورات نہ دینے سے دونوں خاندانوں کے درمیان ناراضگی پیدا ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر سسرال یا ساس کے ساتھ تعلقات پر اثر پڑتا ہے۔ لڑکی اس بات پر ناراض ہوتی ہے کہ مجھے بری میں مناسب زیور کیوں نہ دیا گیا۔ اب اپنی دوستوں کو کیا بتاوں گی۔  

دوسری طرف ساس نندیں یہ سمجھتی ہیں کہ اگر ہمیں سونے کا زیور تحفے میں نہیں دیا گیا۔ تو اس کا مطلب ہے لڑکی اور اس کے گھر والوں کی نظر میں ہماری کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ صورتحال اکثر ساس بہو کے جھگڑے کی وجوہات میں شامل ہوتی ہے۔ جہاں سادہ سی مالی یا روایتی پریشانی خاندانوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا کر دیتی ہے۔ 

دلہن یا دلہا پر دباؤ

زیورات کی وجہ سے دلہن یا دلہا پر بھی ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ خاص کر شادی کے بعد جب لڑکیاں پوچھتی ہیں کہ سسرال میں کیسا اور کتنا زیور ملا۔ منہ دکھائی میں کیا تحفہ ملا۔ یہ دباؤ بعض اوقات دلہا دلہن کے تعلقات کو بھی خراب کر دیتا ہے۔  

بعض خاندانوں میں زیورات طلاق کا باعث بھی بنے ہیں۔ جب اپنی ناک اونچی رکھنے کو دلہن کو ساس، نند یا جیٹھانی کا زیور پہنایا گیا۔ اور شادی کے بعد جب زیور واپس مانگا گیا ۔ تو دلہن اور اس کے گھر والوں کی طرف سے شدید ردعمل آیا۔ یہاں تک کے نوبت طلاق تک پہنچ گئی۔  

سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل 

سونے کی بڑھتی قیمت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی دلچسپ اور عملی تبصرے دیکھنے کو ملے۔ جو ظاہر کرتے ہیں کہ لوگ صرف زیورات تک محدود سوچ نہیں رکھتے۔ بلکہ معاشرتی اور مالی پہلو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔  

محمد اویس کا کہنا تھا کہ

"سونا ہمارے لیے ضروری نہیں۔ مصنوعی زیورات استعمال کر لیں۔ اور سادگی کے ساتھ زندگی گزاریں”

صدیق مسعود نے کمنٹ کیا۔ 
"اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ سونے کے نرخ اتنے کم ہو جائیں کہ ہر شخص کی دسترس میں ہو جائے"

بازغہ احمد نے کہا۔

"سونے کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ چاہے اسے جتنا مہنگا کریں۔ یہ کوئی بنیادی ضرورت نہیں بلکہ عام آدمی کا مسئلہ ہے”

برکت چنگیزی کا کہنا تھا کہ 

"جو جتنی تیزی سے اوپر جاتا ہے، وہ آخرکار زمین پر آ گرتا ہے”

شان علی نے کہا۔ 

" سونے کے ساتھ لوگوں کا پیٹ نہیں بھرتا، گندم سے پیٹ بھرتا ہے۔ یہ کم ہونا چاہیے” 

مصنوعی زیورات: حل یا عارضی تسکین 

سونے کی بڑھتی ہوئی قیمت کے تناظر میں مصنوعی زیورات ایک قابل غور حل کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ یہ نہ صرف بجٹ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ بلکہ دلہن کی جمالیاتی خواہشات کو بھی پورا کرتے ہیں۔ جدید دور میں مصنوعی زیورات کی خوبصورتی اور معیار میں بھی کافی ترقی ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کل بننے والے مصنوعی زیورات نے اصل زیورات کی چمک کو بھی ماند کر دیا ہے۔  

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سونا ایک قسم کی سرمایہ کاری کا درجہ رکھتا ہے۔ اصلی سونا مستقبل میں مالی تحفظ کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ جبکہ مصنوعی زیورات صرف جمالیاتی استعمال تک محدود رہتے ہیں۔ اس تناظر میں خاندانوں کے لیے یہ فیصلہ کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے کہ اصل زیورات لئے جائیں یا مصنوعی زیورات سے ہی کام چلا لیا جائے۔  

حالانکہ یہ ایک عملی حل ہے جس سے شادی کے اخراجات میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔ جبکہ دلہن کی خوشی اور شادی کی روایتی خوبصورتی دونوں کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ 

متبادل حل اور آگاہی 

دلہن کے لیے شادی ایک یادگار لمحہ ہوتی ہے۔ اور زیورات اس لمحے کو یادگار بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن آج کے حالات میں دلہن اور اس کے خاندان کے لیے سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔ سونے کے ریٹس کی غیر یقینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے، خواب کو حقیقت کے مطابق ڈھالنا، بجٹ کے اندر رہتے ہوئے خوشی کا احساس پیدا کرنا، اور غیر ضروری دباؤ سے بچنا، یہ سب زیادہ اہم ہیں۔ 

بہتر ہے کہ نقد رقم، چاندی یا دیگر قیمتی تحائف کے ذریعے اس رسم یا خواہش کو پورا کیا جائے۔ 

اگر سونے کے زیورات دینا ضروری ہے تو ایسا اور اتنا زیور دیا جائے جو دلہن استعمال میں لا سکے۔ یعنی  صرف ضروری اور اہم زیورات بنائے جائیں۔ تاکہ والدین یا لڑکے پر مالی بوجھ کم ہو۔ 

خاندانوں اور نوجوانوں میں شعور پیدا کرنے کے لئے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا سہارا لیا جائے۔ جہاں ایک طرف نت نئے زیورات کی تشہیر ہو رہی ہوتی ہے۔ وہیں شادی کا اصل مقصد واضح کیا جائے۔ اور بتایا جائے کہ مادی اشیاء خوشی یا رشتے کی ضمانت نہیں ہوتیں۔  

اختتامی نوٹ

سونے کی قیمت میں اضافہ واقعی شادی کی تیاریوں میں مشکل پیدا کر رہا ہے۔ مگرحقیقت یہ ہے کہ شادی میں خوشی، محبت اور خلوص ہی اصل زیور ہیں۔  دلہن اور دلہا کو چاہیے کہ وہ حقیقت پسندی کے ساتھ اپنے خوابوں کو سجائیں۔ مگر اس حقیقت کو بھی تسلیم کریں کہ سونے کی چمک عارضی ہے۔ مگر محبت کی چمک ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ لہذا زیورات کی بجائے خوشیوں کا اسٹاک خریدیں۔ آپ کبھی گھاٹے میں نہیں رہیں گے۔

ایک تولہ سونا میں کتنے گرام ہوتے ہیں؟

ایک تولہ سونا میں 11.66 گرام ہوتے ہیں۔ یہ وزن کا ایک روایتی پیمانہ ہے۔ جو پاکستان میں سونے اور دیگر قیمتی دھاتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ 

خالص سونا کتنے کیرٹ کا ہوتا ہے؟

خالص ترین سونا اور چاندی 24 قیراط کا ہوتا ہے۔

اصل سونے کی پہچان کیسے کریں؟

گھریلو سطح پر آپ سرکہ سے سونے کی پاکیزگی بھی چیک کر سکتے ہیں۔ سونے پر سرکے کے چند قطرے ڈالیں اور چند منٹ بعد اسے غور سے دیکھیں۔ اگر سونے کے رنگ میں کوئی تبدیلی نہ ہو تو وہ خالص سونا ہو گا۔ جعلی سونا جیسے ہی سرکہ کے ساتھ مل جائے گا سیاہ ہو جائے گا۔ 

اس کے علاوہ، سونے کے زیورات پر مقناطیس لگائیں۔ اگر زیور مقناطیس سے نہ چپکےتو سونا اصلی ہے۔ یا سرامک پتھر پر سونے کے زیورات کو رگڑیں۔ اگراس پر سیاہ نشان پڑ جائیں تو سونا نقلی ہے۔ اگر وہ سنہری ہو جائے تو سونا اصلی ہے۔ 

چاندی خریدنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

مستند دکاندار یا آن لائن مارکیٹ سے خریداری کریں۔ اور ہمیشہ وزن اور معیار کی تصدیق کریں۔ اور خریداری کے بعد رسید ضرور لیں۔ 

Download App

Simple Rishta

We are available from : 10:00 AM to 10:00 PM (Monday to Friday)

I will be back soon

Hey there 👋
How can we help you?
Messenger